جمرود (نمائندہ مانند ) جمرود پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے تپہ مستل خیل کے سرکردہ مشران حاجی شیر خان،فضل الرحمان،بسم اللہ،میاں باز اور تعویذ خان نے کہا ملک کی بقا اور سالمیت کی خاطر ہم نے وادی تیراہ میں اپنے آباد گھر، کھیت وغیرہ چھوڑ کر متاثرین کی زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے، ہمارے بچوں کی تعلیم کا قیمتی وقت ضائع ہوگیا، مکانات تباہ ہوگئے،مساجد اور حجرے کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے۔ لیکن بدقسمتی سے سیکیورٹی فورسز ہمیں سہولت اور قربانی کا صلہ دینے کی بجائے اب ہمارے قیمتی زمینوں پر قابض ہوگئے جو کسی بھی صورت پر ہمیں قبول نہیں ہے۔ سیکیورٹی فورسز ہمارے زمینوں پر چیک پوسٹ بنانے سے باز رہیں ہمارے غیرموجودگی کا ناجائز فائدہ اٹھا کر علاقہ باڑی، چپری اور دوسرے علاقوں میں زبردستی قبضہ نہ کریں۔ وادی تیراہ میں صدیوں سے ہمارے آباء و اجداد نے بغیر تنخواہ سرحدوں کی حفاظت کی ہے۔ہم محب وطن پاکستانی ہے اور ملک کی آزادی کے لئے بیش بہا قربانیاں دی ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے قربانیوں کا آزالہ ہمیں ہماری اراضی پر قبضے کی شکل میں مل رہی ہے جو ظلم اور بربریت کی انتہا ہے۔باڑی مستل خیل کے مشران نے کورکمانڈر پشاور اور آئی جی ایف سی نارتھ سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز مزید ہمارے زمینوں کو اراضی کو خالی کریں اور آئندہ بغیر اجازت ہمارے زمینوں پر چیک پوسٹیں بنانے سے گریز کریں کیونکہ تیراہ باڑی مستل خیل میں ہماری زمین بہت محدود ہے جس پر تپہ مستل خیل کے مکین خود آبادی کرنا چاہتے ہیں۔