واشنگٹن (مانند نیوز ڈیسک) ایک اندازے کے مطابق امریکا میں سال 2035تک 80فی صد شہری میت جلانے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔امریکی خبر رساں ادارے نے امریکا میں نیشنل فیونرل ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کی پیشگوئی کے حوالے سے لکھا ہے کہ سال 2035 تک لگ بھگ 80 فی صد امریکی اپنی آخری رسومات میں میت سوزی کا انتخاب کریں گے۔ امریکا کی ریاست پنسلوینیا کے شہر لنکاسٹر میں 1876 میں جب مردوں کو جلانے والی پہلی کمپنی کھولی گئی تو اس کے خالق اور آپریٹر فرانسس لیموئن کو کیتھولک چرچ نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ میت کو ٹھکانے لگانے کا نیا طریقہ خطرناک سمجھا جاتا تھا کیوں کہ اس سے روایتی مذہبی تدفین اور معاشرے کے اخلاق واقدار کے احساس کو خطرہ لاحق تھا۔ 100 سال سے بھی کم عرصے کے بعد 1963 میں مصنفہ جیسیکا مِٹ فورڈ کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب دی امریکن وے آف ڈیتھ لکھی تاکہ امریکیوں کو اپنے ان تجربات سے آگاہ کیا جا سکے کہ اس نے موت اور موت کی خوف ناک تجارت میں کیا دیکھا۔ یادگاری جنازوں کے ڈائریکٹرز، قبرستانوں اور دیگر متعلقہ پیشوں پر کڑی تنقید کرنے کے بعد انہوں نے میت سوزی کے حق میں اپنا مدعا ختم کیا۔ تاہم 1970 تک امریکا کی کریمیشن ایسوسی ایشن کے اعداد و شمار کے مطابق صرف پانچ فی صد امریکیوں نے اس طرح کی رسومات کے طریقے کا انتخاب کیا البتہ 2020 میں 56 فی صد سے زیادہ امریکیوں نے اس طریقے کو منتخب کیا۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے