شانگلہ (مانند نیوز ڈیسک) صوبائی وزیر محنت و ثقافت،انسانی حقوق و پارلیمانی امور شوکت یوسفزئی نے کہا ہے کہ عمران خان حکومت ختم کرنے کیلئے ایک نعرہ اٹھایا گیا کہ مہنگائی ہیں ا ورعوام پریشان ہیں،ڈالر اوپر گیا اور ایندھن کی قیمتی آسمان تک پہنچ گئی مگر ہم آج یہ دیکھ رہے ہیں کہ پی ٹی آئی حکومت میں پیٹرول 150کا تھا اور 250کا ہوگیا ہے،ڈالر اس وقت کس پوزیشن میں تھا اور اب کہا ہے۔صورتحال وفاقی حکومت کے ہاتھوں سے نکل چکی ہیں ملک انتہائی خطرناک صورتحال کی طرف جارہا ہے۔ان سارے مسئلوں کا حل صرف اور صرف غیر جانبدار شفاف اور آزاد انتخابات کرکے نظام نئے منتخب نمائندوں کو دیا جائے۔ان خیالات کااظہار شوکت یوسفزئی نے گزشتہ روز اپنے دورہ شانگلہ کے موقع پر یونین کونسل ملک خیل کے بالائی علاقوں میں مختلف شمولیتی تقاریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔انھوں نے کہا کہ شانگلہ قومی سطح پر سیاحت کا مرکز بن سکتا ہے یہاں مواصلات کا مسئلہ ہے جسے ہنگامی بنیادوں پر ترقی دی جا رہی ہے، سیاحت کی صنعت کو ترقی دے کر علاقے کی محرومیوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ شانگلہ میں کھربوں روپے کے زمرد اور دیگر قیمتی معدنی ذخائر دریافت ہوئے ہیں تاہم بعض ٹھیکیداروں پر کان کوڑیوں کے دام نکالنے کی شکایات ہیں مگر صوبائی حکومت انہیں لگام ڈالے گی اور عوامی خواہشات کے مطابق اس کا منافع علاقے کی ترقی پر خرچ کیا جائے گا یہ ضلع قدرتی خوبصورتی، آب و ہوا اور علاقے کے لوگوں کی مہمان دوستی کی وجہ سے سیاحت کیلئے نہایت موضوع ہے، ماضی میں عوامی نمائندوں نے شانگلہ کی ترقی کیلئے کوئی کام نہیں کیا جس کی وجہ سے ضلع پسماندہ رہ گیا، شانگلہ کی طرح پورا ملک کرپٹ لیڈرز کی بدعنوانیوں کی وجہ سے کرپٹ سسٹم کے تحت چلتا رہا، عمران خان کی قیادت میں ترقی و خوشحالی کے جس دور کا آغاز ہوا اس میں پسماندہ علاقوں کو ترقی کے دھارے میں شامل کیا گیا، ایسا نظام متعارف کرایا گیا جس میں فنڈ عوام کی مشاورت سے مقامی منصوبوں پر خرچ ہونا شروع ہوا۔شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ ضلع شانگلہ کی تقدیر بدلنے اور نوجوانوں کو ملازمتوں سے منسلک کرنے کے لئے ضلع میں یونیورسٹی کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے جس سے ضلع کے نوجوانوں کو علاقے میں ہی اعلیٰ تعلیم کا موقع ملے گا، صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی کا کہنا ہے کہ دور افتادہ علاقوں میں صحت سہولیات بہتر کرنے کیلئے بنیادی مراکز صحت کو نئے ماڈل میں شفٹ کیا جارہا ہے جس سے صحت مراکز میں طبی خدمات 24 گھنٹے دستیاب ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ سوات اور شانگلہ کے سیاحتی مقامات کو باہم منسلک کرنے کیلئے روڈ منصوبوں پر کام جاری ہے جس سے ضلع شانگلہ میں سیاحت کو ترقی ملے گی۔ 96 سے مسلسل جدو جہد کررہے ہیں، منزل تک پہنچنا کھٹن ضرور تھا، نیت صاف تھی، اللہ کی مدد تھی تو جدوجہد کامیاب ہوئی۔ صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہ قوم تبدیلی کا تہہ کرے تو ترقی ہر صورت ممکن ہوتی ہے۔ جدوجہد کا سلسلہ جاری رہا تو وہ دور نہیں جب ترقی کے ثمرات دور افتادہ علاقوں کے ہر گاؤں اور گھر تک پہنچے۔ ضلع شانگلہ میں تعلیم اور صحت کی مد میں بہترین کام ہورہے ہیں اور سہولیات کو اپگریڈ کیا جارہا ہے۔عوام سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ مقامی ترقیاتی منصوبوں پر عوام نظر رکھیں اور پیشرفت کے حوالے سے اپنا کردار ادا کریں، ان کا کہنا تھا مقامی ترقی عوامی شمولیت سے ہی ممکن ہے۔ صوبائی وزیر شوکت یوسفزئی نے دورافتادہ علاقوں کے دورے کے سلسلے میں گاڈوا اور معروف خیل کا دورہ کیا۔ اس موقع پر مختلف مقامی لیڈرز نے مختلف اپوزیشن پارٹیوں سے مستعفی ہو کر پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا اعلان کیا۔ صوبائی وزیر نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت پر خاندانوں اور مقامی لیڈرز کا شکریہ ادا کیا۔ دورے کے موقع پر تحصیل ناظمین وقار آحمد خان، سدید الرحمان اور دیگر مقامی لیڈرز بھی ان کے ہمراہ تھے اور خطابات کئے۔