اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)ایمل ولی نے یہ انکشاف چند دن پہلے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کے طالبان باقاعدہ صوابی اور بونیر پہنچ گئی ہیں۔ اس ہفتہ طالبان کی کچھ فوجی افسران اور ایک ڈی ایس پی کی گرفتاری کی ویڈیوبھی وائرل کی تھی۔
یاد رہے صوابی اور اسلام آبد کا فاصلہ ایک گھنٹہ سے بھی کم ہے۔ تفصیلات کے مطابق شمالی وزیرستان کے بعد اب کالعدم ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں سے وابستہ عسکریت پسند اب وادی سوات اور مالاکنڈ ڈویژن کے دیگر حصوں میں نمودار ہو رہے ہیں۔ اتوار کے روز لوئر دیر کے بنشی کے مقام پر پاک افغان سرحد پر سیکیورٹی فورسز اور کالعدم ٹی ٹی پی اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات بھی ملی ہیں۔ جبکہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ضلع سوات کی تحصیل مٹہ میں عسکریت پسندوں نے پولیس چوکی پر حملہ کیا۔ پیر کو سائیں مٹہ میں پولیس اور عسکریت پسندوں کے درمیان جھڑپ کی اطلاع ملی جس میں ایک افسر سمیت کم از کم چار افراد زخمی ہوئے۔
مٹہ 2005 سے 2009 تک کالعدم ٹی ٹی پی سوات چیپٹر کا مرکز رہا۔ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ مرحوم صوفی محمد نے نائن الیون کے فوراً بعد 10 ہزار کے قریب غیر تربیت یافتہ افراد پر مشتمل مسلح لشکر افغانستان بھیجنا شروع کر دیا تھا جب امریکہ نے طالبان اور القاعدہ پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملے کا الزام لگایا تھا۔ اسی طرح کالعدم ٹی ٹی پی کے اس وقت کے سربراہ کے سسر صوفی محمد کے اس عمل نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے رجحان کی راہیں ہموار کی ہیں جو ایک وقت کی سب سے زیادہ آزاد خیال اور اعتدال پسند وادی سوات سے پورے پختونخواہ میں پھیل چکے ہیں۔