چترال (مانند نیوز ) چترال میں ایک ایسا فلاحی ادارہ بھی ہے جہاں ضلع بھر کے تمام یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کا بھی مفت اہتمام کیا جاتا ہے۔ ان یتیم بچوں کو دوسرے طلباء و طالبات سے ملانے، ان کو چند لمحون کیلئے خوشی دینے اور عوام کی توجہ ان کی طرف مرکوز کرانے کیلئے ایک تقریب منعقد ہوئی جس میں حصوصی طور پر روس سے تعلق رکھنے والے ماہرین تعلیم نے بھی شرکت کی جنہوں نے پاکستان کو بہت سراہا۔ ہیں لوگ دنیا میں وہی اچھے آتے ہیں جو کام دوسروں کے۔ چترال میں حمیدہ ایجوکیشن اکیڈمی اینڈ بورڈنگ کے نام پر ایک ایسا ادارہ بھی موجود ہے جہاں ضلع بھر کے یتیم بچوں اور بچیوں کی کفالت کے ساتھ ساتھ ان کی تعلیم و تربیت کا بھی اہتمام کرتا ہے۔ حمیدہ ایجوکیشن اکیڈمی اینڈ بورڈنگ میں ان بچوں کو چند لمحوں کیلئے خوش رکھنے، ان کی علم اور بصیرت میں اضافے کے ساتھ ساتھ دوسرے بچوں سے گھل ملنے کا موقع فراہم کرنے کیلئے ایک تقریب منعقد کرایا گیا۔جن یتیم بچوں کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں ان کو دوسرے بچوں سے ملنے کا موقع فراہم ہوا۔ اس تقریب میں سرکاری اور غیر سرکاری سکولوں کے علاوہ دینی مدارس کے طلبا و طالبات کو بھی بلائے گئے تھے۔بچوں میں قومی نغمے، نعت، تقاریر اور ٹیبلو کے مقابلے ہوئے ان یتیم بچوں کی حوصلہ افزائی کیلئے روس سے تعلق رکھنے واہے ماہرین نفسیات الینا ڈاروے اور میخائیل میکالوف نے حصوصی طور پر شرکت کی۔ روس کے ان مہمانوں نے چترال کی مثالی امن اور مہمان نوازی کو بہت سراہاانہوں نے مغربی میڈیا میں پاکستان کے حلاف منفی پراپیگنڈے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے اور یہاں کے لوگ نہایت پر امن ہیں اور ہم دونوں یہاں نہایت آزادی سے گھوم پھر رہے ہیں اور کئی حطرہ محسوس نہیں کرتے۔اس تقریب میں طلبا ء و طالبات نے بہترین انداز میں پرفارمنس کرتے ہوئے حاضرین سے داد لی تقریب میں ایڈیشنل اسسٹنٹ کمشنر حاجی حفیظ اللہ مہمان حصوصی تھے۔ اس تقریب کے بعد روسی مہمان نے جذبات میں آکر روس سمیت دنیا بھر کے سیاحوں کو چترال آنے کی دعوت بھی دیاس تقریب میں اول، دوم اور سوم آنے والے طلباء و طالبات میں ایوارڈز کے ساتھ ساتھ دس ہزار، پانچ ہزار اور تین ہزار روپے نقد انعامات بھی دئے گئے۔ یتیم بچوں کے ساتھ ساتھ مہمان طلباء اور شرکاء نے بھی شہزادہ مدثر الملک اور مولانا عماد الدین کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے ان یتیم بچوں کی کفالت کیلئے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اور ان کو یہ موقع فراہم کیا جس میں ان کا ایکسپوژر بھی ہوا اور چند لمحوں کیلئے اپنی محرومیاں بھول گئے۔ تقریب میں کثیر تعداد میں لوگوں نے شرکت کی۔مہمان حصوصی اے سی چترال حفیظ اللہ نے تمام حاضرین پر زور دیا کہ وہ اپنے بچوں کے ساتھ ساتھ ان یتیم بچوں کا بھی کفالت اور تعلیم و تربیت کا حیال رکھے جن کا اس دنیا میں کوئی سہارا نہیں ہے تاکہ یہ بچے بڑے ہوکر ایک مفید شہری بنے۔ انہوں نے کہا کہ ان بچوں کے ساتھ مدد کرنا عبادت ہے اور اس کیلئے نبی مہربان ﷺ نے خوشخبری دی ہے کہ جو بندہ یتیم کا کفالت کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ اکھٹا رہے گا۔انہوں نے کہا کہ اپنے خیرات، زکوۃ اور صدقات میں سے کچھ حصہ ان یتیم بچوں کیلئے بھی دیا کرے تاکہ ان کو اپنے والدین اور سرپرستوں کی کمی محسوس نہ ہو۔