وانا (مانند نیوز ) جنوبی وزیرستان کی تحصیل توئی خلہ سے تعلق رکھنے والے ملک عبدالرازق سلیمان خیل نے ڈسٹرکٹ پریس کلب وانا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جنوبی وزیرستان کے مختلف علاقوں میں فصل کی کاشتکاری نومبر کے مہینے سے شروع ہو جاتی ہے، جس میں علاقہ سپین، توئی خلہ ، زرمیلن اور تنائی شامل ہیں، جو کہ جنوبی وزیرستان کے دوسرے علاقوں سے مختلف ہیں، یہ علاقےدوسرے علاقوں کے مقابلے میں دوگناہ فصل پیدا کر تے ہیں ، لیکن محکمہ زراعت اپنے ٹائم پر بیج اور تخم فراہم نہیں کررہا، بیج اور تخم ٹائم پر نہ دینے کی وجہ سے وزیرستان کے مختلف علاقے بروقت کاشت اور بوائی سے محروم رہ جاتے ہیں، درختوں کا یہی حساب ہے، پودا اگر اپنے ٹائم پر نہ لگایا جائے تو وہ بھی ضائع ہوجاتا ہے۔ اب چونکہ جنوبی وزیرستان میں گندم کا سیزن نومبر کے مہینے سے شروع ہو جاتا ہے، لیکن بدقسمتی سے محکمہ زراعت نومبر کی بجائے دسمبر اور جنوری کے مہینے میں تخم اور بیج سپلائی کرتا ہے، جو وزیرستان کے عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ ملک گلاپ وزیر کا کہنا تھا کہ محکمہ زراعت کے بیج پر دوایاں ڈال دی جاتی ہے، جو کاشت کیلئے اپنے وقت پر دستیاب نہیں ہوتا،اور بعد میں کھانے کے قابل اس لئے نہیں ہوتا کہ زراعت کی بیج اور تخم کو دوائی لگی ہوتی ہے،جو کہ صرف کاشت کیلئے استعمال ہوتا ہے، لیکن بدقسمتی سے گندم کی یہ تخم بوائی کی سیزن کے بعد ملتی ہے۔ انہوں نے اعلی حکام سے پرزور مطالبہ کیا کہ جنوبی وزیرستان کے عوام پر رحم کریں اور گندم کی بیج کی دستیابی کو بر یقینی بنائیں، تاکہ جنوبی وزیرستان کے عوام اس سے مستفید ہو سکیں۔