پشاور (مانند نیوز) ناظم اعلیٰ اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان صاحبزادہ وسیم حیدر نے طلبہ یونین بحالی، تعلیمی فیسوں میں کمی، تعلیمی مسائل حل کرنے کے لیے "حقوق طلبہ تحریک” شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں تعلیمی مسائل اور طلبہ حقوق کے لیے تحریک چلا کر طلبہ کو اپنے حقوق کے لیے منظم کریں گے۔ اس لیے تمام طلبہ تنظیمیں اپنے نظریاتی اختلافات ایک طرف رکھ کر طلبہ مطالبات پر اسلامی جمعیت طلبہ کی تحریک کا ساتھ دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور میں دو روزہ مرکزی مجلس شوریٰ کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سیکرٹری جنرل اسلامی جمعیت طلبہ ابوذر غفاری، ناظم صوبہ خیبرپختونخوا اسفندیار عزت، ناظم پنجاب جنوبی حذیفہ عثمان،ناظم آزاد جموں کشمیر وگلگت بلتستان احتشام الحسن،ناظم بلوچستان احسان اللہ ناصر اور اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل و ترجمان حسن امین بھی اس موقع پر موجود تھے۔ صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ بلدیاتی ادارے اور طلبہ یونین دونوں جمہوریت کی نرسریاں ہیں۔ طلبہ یونین کے ذریعے ہی طلبہ کے مسائل حل ہوتے تھے۔ ملک میں ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے طبقے کی یونین موجود ہیں، مگر پاکستان کے 6 کروڑ طلبہ و طالبات اپنے جمہوری اور آئینی حق، طلبہ یونین، سے محروم ہیں۔ طلبہ یونین پر پابندی پاکستان کے جمہوری اقدار اور طلبہ کمیونٹی کے ساتھ غداری ہے۔ حقوق طلبہ تحریک کے ذریعے طلبہ یونین بحالی اور تعلیمی مسائل کے حل کے لیے نچلی اور صوبائی سطح سے لے کر قومی سطح پر منظم تحریک چلائیں گے۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو اکٹھا کریں گے۔ صحافیوں، وکلاء سمیت ہر طبقے کے لوگ شامل کریں گے۔ ناظم اعلیٰ نے پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کسی کے خوف سے الیکشن نہیں کرانا چاہتے ہیں۔ پی ٹی آئی اگر سمجھتی ہے کہ یہ جمہوری پارٹی ہے تو آپ نے یونین الیکشن کرانا ہوں گے۔ سابق وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے میں طلبہ یونین بحالی کے اعلان کے اپنے وعدے کا پاس نہیں رکھا۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے صوبائی حکومت کو پوری تحریری تجاویز اور خاکہ دیا ہے۔ پھر کیا رکاوٹ ہے کہ یونین بحال نہیں کیا؟ ناظم اعلیٰ نے واضح کیا کہ طلبہ یونین پر پابندی جمعیت کا کسی کے ساتھ ذاتی مسئلہ نہیں، بلکہ پوری طلبہ کمیونٹی کا مسئلہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ 2017-18 سے ہائر ایجوکیشن بجٹ میں اضافہ نہیں ہو رہا ہے۔ پاکستان جی ڈی پی کا تعلیم پر ایک فیصد سے بھی کم خرچ کر رہا ہے۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ اس کو بڑھا کر 4 فیصد کیا جائے۔ صاحبزادہ وسیم حیدر نے کہا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 838 بلین روپے تو ملتے ہیں، لیکن ملک کی بڑی جامعات کے اساتذہ آئے روز تنخواہ کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔ جامعات مالی بحران کا شکار ہیں۔ ناظم اعلیٰ نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی کے خلاف امیر جماعت اسلامی پاکستان حافظ نعیم الرحمن کی جدوجہد اور تحریک کو سپورٹ کرتے ہیں۔ پیٹرولیم لیوی طلبہ کمیونٹی کا بھی مسئلہ ہے۔ بائیک چلانے والے طلبہ سے فی لیٹر 125 روپے لیوی وصول کی جاتی ہے۔ 16 ستمبر کو جامعہ پنجاب سے وزیر اعلیٰ ہاؤس مال روڈ تک مارچ کریں گے۔ پیٹرولیم لیوی کو فی الفور ختم کرے۔ ناظم اعلیٰ نے کہا کہ پاکستان کے تعلیمی اداروں میں زیرِ تعلیم افغان طلبہ ہمارے مہمان ہیں، ان کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کا حق دیا جائے۔ اسلامی جمعیت طلبہ نے رِٹ پٹیشن دائر کی ہے۔اسلامی جمعیت طلبہ ہر فورم پر ان کا ساتھ دے گی۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے