نارووال(مانند میڈیا)یونیورسٹی آف نارووال کے زیر اہتمام ”گرینڈ ڈائیلاگ آن یوتھ اینڈ ڈیموکریسی” پروگرام منعقد کیا گیا۔ شعور فاؤنڈیشن اور یونیورسٹی آف نارووال کے اشتراک سے منعقدہ پروگرام میں نوجوانوں میں جمہوری شعور، مثبت جمہوری رویوں کے فروغ، معاشرے میں نوجوان نسل کے کردار اور دورِ حاضر میں جمہوریت کے بدلتے رجحانات کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔تقریب میں یونیورسٹی آف نارووال کے اساتذہ، طلبہ و طالبات، مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور میڈیا نمائندگان نے شرکت کی۔ اس موقع پر نوجوانوں کو درپیش مسائل، ان کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادے ، فیصلہ سازی کے عمل میں نوجوانوں کی شمولیت اور ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے ان کے کردار پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈپٹی کمشنر نارووال محمد طیب خان نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نوجوان کسی بھی معاشرے کا قیمتی اثاثہ اور ملک کے مستقبل کے معمار ہیں۔ نوجوان نسل میں جمہوری اقدار، برداشت، باہمی احترام، اختلافِ رائے کو مثبت انداز میں قبول کرنے اور قانون کی پاسداری کا شعور اجاگر کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ادارے نوجوانوں کی فکری اور شعوری تربیت میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف جدید تعلیم و ہنر سے آراستہ کیا جاتا ہے بلکہ ذمہ دار شہری بننے کے مواقع بھی فراہم کیے جاتے ہیں۔اس موقع پر بات کرتے ہوئے وائس چانسلر یونیورسٹی آف نارووال پروفیسر ڈاکٹر ضیائالحق (تمغہ امتیاز)نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جدید دور میں جمہوریت کے تقاضے بھی تبدیل ہو رہے ہیں، جس کے باعث نوجوانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ معاشرتی اور قومی معاملات کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ مثبت، تعمیری اور ذمہ دارانہ انداز میں اپنی رائے کا اظہار کریں۔ سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی نے نوجوانوں کو اظہارِ رائے کے وسیع مواقع فراہم کیے ہیں، تاہم ان ذرائع کا ذمہ دارانہ استعمال، درست معلومات کی پہچان اور افواہوں و گمراہ کن معلومات سے اجتناب بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جمہوری معاشرے میں اختلافِ رائے ایک فطری عمل ہے ، تاہم اختلاف کو دشمنی کے بجائے مکالمے ، برداشت اور دلیل کے ذریعے حل کرنا ہی معاشرے کی ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔ نوجوان نسل کو چاہیے کہ وہ مثبت سوچ، تحقیق، علم اور برداشت کو اپنا شعار بناتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرے۔شرکاء نے ”گرینڈ ڈائیلاگ آن یوتھ اینڈ ڈیموکریسی” کے انعقاد کو نوجوانوں میں جمہوری شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے اہم اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نوعیت کے مکالموں سے نوجوانوں کو قومی و معاشرتی معاملات کو سمجھنے ، اپنی آراء کے اظہار اور مختلف نقطہ ہائے نظر کو سننے اور سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔تقریب کے اختتام پر نوجوانوں اور شرکاء کے ساتھ سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں جمہوریت، نوجوانوں کے کردار، جدید دور کے تقاضوں اور معاشرتی ترقی سے متعلق مختلف امور پر گفتگو کی گئی۔اس موقع پر مفتی ضیا الحق نقشبندی (مذہبی سکالر)،راجہ شعیب اکبر چیف ایگزیکٹو شعور فاؤنڈیشن،احمد نوید الحسن مینجنگ ڈائریکٹر حسن سکالرز اور ڈاکٹر محمد حسیب سرور سربراہ شعبہ ابلاغیات نے بھی شرکت کی