اسلام آباد(مانند میڈیا)خیبرپختونخوا میں کنٹریکٹ پر بھرتی ہونے والے لیکچرز کی جانب سے سنیارٹی کے معاملہ پردائرنظر ثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ آف پاکستان کے سینئر جج جسٹس جمال خان مندوخیل نے ریمارکس دئیے کہ ایک توچور دروازے سے آتے ہیں اور دوسرے ریگولر والوں سے اوپر سنیارٹی مانگتے ہیں۔ یہ سروس کااصول ہے کہ جو ریگولرتعینا ت ہوتاہے وہ کنٹریکٹ والوں سے سینئر ہوتاہے۔ کنٹریکٹ پر مخصوص وقت کے لئے آتے ہیں، کنٹریکٹ پوسٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے حوالہ سے ایکٹ آنے سے قبل جن کی سفارش ہوگئی تھی وہ سینئر ہوں گے۔ جبکہ بینچ نے نظرثانی درخواستیں خارج کردیں۔جسٹس جمال خان مندوخیل کی سربراہی میںجسٹس نعیم اخترافغان اورجسٹس عقیل احمد عباسی پر مشتمل 3رکنی بینچ نے محمد رفیع، گل ایوب، سراج خان، منظور حسین، دوست محمد ، محمد ایاز، ظریف شاد اوردیگر کی جانب سے سنیارٹی کے معاملہ پر بادشاہ زمین اوردیگر کے خلاف دائر 7نظرثانی درخواستوں پرسماعت کی۔درخواست گزاروں کی جانب سے محمد رمضان خان،محمد صدیقی، آفتاب عالم یاسر، محمدعامر ملک بطوروکیل پیش ہوئے جبکہ مدعاعلیہان کی جانب سے شعیب شاہین ایڈووکیٹ بطور وکیل پیش ہوئے۔ جبکہ خیبرپختونخوا حکومت کی جانب سے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل زاہد یوسف قریشی پیش ہوئے۔درخواستوں گزاروںکے چاروں وکلاء کی جانب سے اکٹھے بولنے پر جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ اتنا موقع دے رہے ہیں پھر بھی آپ بے صبرے ہورہے ہیں۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ ایک کے علاوہ دیگر وکلاء بیٹھ جائیں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھاکہ درخواست گزار جاکرسنیارٹی کوچیلنج کریں۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ مدعاعلیہان 24ستمبر2009کو مستقل ہوئے جبکہ کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کاایکٹ 24اکتوبر2009کو آیا۔ جسٹس عقیل عباسی کاکہناتھا کہ مدعاعلیہان کو 27جون2009کو تعینات کرنے کی سفارش ہوئی تھی اسی تاریخ سے اُن کی سنیارٹی شمار ہوگی۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ جولوگ 2005میں کنٹریکٹ پر تعینات ہوئے ہمارے سامنے اُن کاایشوتھا۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ سب مضامین کے لئے بھرتی کاایک ہی اشتہارآیاتھا۔ جسٹس جمال مندوخیل نے وکیل محمد رمضان خان کے دلائل سے تنگ آکرانہیں بیٹھنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ آپ ہماری بات ہی نہیں سنتے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ سارے کنٹریکٹ ملازمین تھے۔ وکیل محمد صدیق کاکہناتھا کہ ہم کہتے ہیںجن کے انٹرویو2010میں ہوئے ان کوہم سے سینئر قرارنہ دیا جائے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ ملازمین کی ریگولرائزیشن کے حوالہ سے ایکٹ آنے سے قبل جن کی سفارش ہوگئی تھی وہ سینئر ہوں گے۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھاکہ یہ سروس کااصول ہے کہ جو ریگولرتعینا ت ہوتاہے وہ کنٹریکٹ والوں سے سینئر ہوتاہے۔ جسٹس نعیم اخترافغان کاکہناتھا کہ مستقل بھرتیوں کااشتہارآیا ، درخواست گزاروں نے اس پر اپلائی نہیں کیا۔ جسٹس جمال مندوخیل کاکہناتھا کہ ایک توچوردروازے سے آتے ہیں اور دوسرے ریگولروالوں سے سنیارٹی مانگتے ہیں۔ وکیل عامر ملک کاکہناتھا کہ ہم 2009میں مستقل ہوئے اورمدعاعلیہان کاانٹرویو2010میں ہوا۔ ایک درخواست گزار ذاتی حیثیت میں پیش ہوئے۔ جسٹس جمال مندوخیل کادرخواست گزارسے مکالمہ کرتے ہوئے کہناتھا کہ آپ کنٹریکٹ پر کیسے آئے ، کنٹریکٹ پر مخصوص وقت کے لئے آتے ہیں، کنٹریکٹ پوسٹ کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔اس پر درخواست گزارکاکہناتھا کہ میں ٹیسٹ اورانٹرویو دے کرآیاتھا۔ اس پر مدعاعلیہان کے وکیل شعیب شاہین کاکہناتھا کہ یہ چور دروازے سے آئے ہیں۔ بینچ نے وکلاء کے دلائل سننے کے بعد نظرثانی درخواستیں خارج کردیں۔ ZS #/S

#/S

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے