اضافہ شدہ ڈیرہ اسماعیل خان (مانند میڈیا)تحصیل درازندہ میں امن میلہ پولیس چیک پوسٹ پر بارود سے بھری ٹریکٹر ٹرالی ٹکرا دی گئی، چیک پوسٹ سے ملحقہ گھر منہدم، دھماکے میں خواتین ،بچوں پولیس اہلکاروں سمیت12سے زائد افرادشہید،32سے زائد زخمی ، گورنر خیبرپختونخواہ فیصل کریم کنڈی کی واقعہ کی مذمت ، اعلیٰ حکام سے رپورٹ طلب کرلی،آرپی او ڈیرہ غلام مبشر میکن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ابتدائی طور پر 10افراد کے شہید اور 30کے زخمی ہونے کی تصدیق کردی۔ تفصیلات کے مطابق تھانہ درازندہ کی حدود میں ژوب روڈ واقع امن میلہ چیک پوسٹ پرنامعلوم حملہ آور نے بارود سے بھری ٹریکٹر ٹرالی ٹکرا دی ، جس کے بعد شدید فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں، دھماکہ کے باعث چیک پوسٹ کے قریب گھر مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی، جبکہ چیک پوسٹ کا بڑا حصہ تباہ ہوگیا،ذرائع کے مطابق چیک پوسٹ پر محکمہ پولیس ،محکمہ ایکسائز، کسٹم اور وائلڈ لائف کے اہلکار بھی موجو تھے ،آرپی او ڈیرہ غلام مبشر میکن نے دھماکہ کے فوری بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ابتدائی اطلاعات کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں سمیت10افراد شہید جبکہ 30زخمی ہوئے ہیں ، واقعہ کے فوراً بعد ڈی پی او ڈیرہ ضیاء الدین احمد اور ایس پی صدر موقع پر پہنچ گئے اور انہوں نے شہداء و زخمیوں کو فوری طورپر ریسکیو کرکے ہسپتال منتقل کیا، زخمیوں میں6پولیس اہلکار بھی شامل ہیں،ای ٹی او ایکسائز ڈیرہ فہیم وزیر کے مطابق حملے میں محکمہ ایکسائز کے اہلکار محفوظ رہے ،جبکہ دھماکے میں شہید ہونے والوں میں کسٹم اے ایس آئی فرمان مروت ، محمد مہران سکنہ وانڈہ مدت ،محمد بلال کسٹم مزدور ،مستو خان سکنہ درازندہ ،کسٹم اہلکار اسامہ ،فیصل عزیز سکنہ درازندہ شامل ہیں جبکہ دھماکے کے باعث تباہ ہونیوالے گھر جلال خان ولد روزی خان اس کا بھائی نجیب اللہ زخمی ہوگئے ، اس کی والدہ گل میدانہ بی بی ذوجہ روزی ، جلال خان کی ذوجہ مقو بی بی اور اس کی بیٹی گل ورینہ بی بی بھی شہید ہوگئے ، جبکہ ذرائع کے مطابق واقعے کے بعد12 افراد کی نعشیں قریبی ہسپتال لائی گئیں، جن میں 7 مرد، 2 خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مجموعی طور پر 32 زخمیوں کو بھی طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا گیا۔ذرائع کے مطابق زخمیوں میں سے 18 افراد کو تشویشناک حالت یا مزید علاج کی ضرورت کے باعث ڈیرہ اسماعیل خان منتقل کیا گیا ہے۔ بعض زخمیوں کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے ، جس کے باعث شہادتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔دھماکے سے چیک پوسٹ کو پہنچنے والے شدید نقصان کے باعث متعدد افراد کے ملبے تلے دبے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ پولیس، سکیورٹی فورسز اور امدادی اداروں کی ٹیمیں جائے وقوعہ پر پہنچ کر ملبہ ہٹانے اور ممکنہ طور پر دبے افراد کو نکالنے کی کارروائی میں مصروف ہیں۔امدادی ٹیموں نے زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا، جبکہ شدید زخمیوں کو ڈیرہ اسماعیل خان کے بڑے طبی مراکز بھیجا گیا۔ واقعے پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم خان کنڈی نے اعلیٰ حکام سے امن میلہ چیک پوسٹ حملے کی رپورٹ طلب کی ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ واقعے میں زخمی ہونے والے افراد کو ہر ممکن طبی سہولت فراہم کی جائے۔گورنر نے حملے کو دہشتگردی کی کارروائی قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی اور کہا کہ ایسے واقعات کے ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی ضروری ہے۔واقعے کے بعد امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور ملبے کی مکمل تلاشی کا عمل ختم نہیں ہوا