اسلام آباد (مانند نیوز) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کے پہلے دور میں ماحول کئی بار کشیدہ ہوا اور فریقین کے درمیان گرما گرمی بھی ہوئی۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی زیرِ صدارت حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئے۔
حکومتی وفد میں طلال چوہدری، محسن نقوی، شیری رحمٰن، رانا ثناء اللّٰہ اور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری جبکہ اپوزیشن کی جانب سے علامہ ناصر عباس، بیرسٹر گوہر، اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے واضح کیا ہے کہ اسلام آباد پر چڑھائی کی کسی صورت اجازت نہیں دی جائے گی، حکومت نے اپوزیشن سے باضابطہ طور پر لانگ مارچ ملتوی یا منسوخ کرنے کا مطالبہ کر دیا، حکومت نے اپوزیشن کو عدالتی فیصلے پر عمل درآمد کی یقین دہانی بھی کروائی۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم نے کہا ہے کہ لانگ مارچ، دھمکیاں دینا اور اڈیالہ جیل پر حملے کی بات کرنا درست نہیں، مذاکرات میں لچک کا مظاہرہ صرف حکومت نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی کرنا ہو گا۔
اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے فریقین پر افہام و تفہیم کے ساتھ آگے بڑھنے پر زور دیا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کے آغاز پر وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے خیبر پختون خوا حکومت اور وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے خلاف نکات پیش کیے اور تحریکِ طالبان پاکستان کے حملوں اور امن و امان کی صورتِ حال کو خیبر پختون خوا حکومت کی ناکامی قرار دیا۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے حکومتی مؤقف مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی پر نہیں بلکہ سیاسی معاملات پر بات کرنے آئے ہیں، مذاکرات کو دہشت گردی سے جوڑا جا رہا ہے، ارکانِ اسمبلی کی گرفتاریوں کا ذمے دار کون ہے۔
ذرائع کے مطابق علامہ راجہ ناصر عباس نے مؤقف اختیار کیا کہ تحریکِ انصاف کے رہنما اپنی قیادت کی اجازت کے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کر سکتے، بانیٔ چیئرمین سے ملاقات کے بغیر پی ٹی آئی رہنماؤں سے فیصلوں کی توقع کیوں کی جاتی ہے، مسائل کا حل محمود خان اچکزئی اور ان کی بانی چیئرمین سے ملاقات کے بعد ہی نکل سکتا ہے۔
شیری رحمٰن نے سوال کیا کہ ملاقات کی کیا ضمانت ہے کہ اس کے بعد مسائل حل ہو جائیں گے؟ علامہ راجہ ناصر عباس نے جواب دیا کہ میں اس کی ذمے داری لیتا ہوں، بانی چیئرمین سے ملاقات ہو گی تو حالات بہتر ہوں گے، جب تک ملاقات نہیں ہوتی کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہو گا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن قیادت اور محمود خان اچکزئی کا مؤقف بیرسٹر گوہر نے حکومتی ٹیم کے سامنے رکھا، پہلے سیشن میں محسن نقوی، علامہ راجہ ناصر عباس اور بیرسٹر گوہر نے گفتگو کی جبکہ پیپلز پارٹی کے اراکین زیادہ تر خاموش رہے۔
مذاکرات کے دوران نماز کے لیے وقفہ بھی لیا گیا۔
ذرائع کے مطابق نماز کے بعد مذاکرات کے دوسرے دور میں مختلف امور پر بات چیت ہوئی۔
عدالتی معاملات پر مشیر سیاسی امور رانا ثناء اللّٰہ اور اپوزیشن لیڈر سینیٹ علامہ راجہ ناصر عباس کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔
ذرائع کے مطابق اسپیکر نے مداخلت کرتے ہوئے دونوں فریقین کو تحمل کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔
علامہ راجہ ناصر عباس نے عدالتی فیصلوں پر مکمل عمل نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی سمیت حکومتی اقدامات پر مایوسی کا اظہار کیا۔
رانا ثناء اللّٰہ نے کہا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل کروایا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں نے اپنے دیگر قائدین کو بھی اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بعد محسن نقوی اور راناثنااللّٰہ نے وزیراعظم شہبازشریف سے رابطہ کیا اور وزیراعظم کو تحریکِ انصاف سے مذاکرات کی اب تک کی پیشرفت سے آگاہ کیا۔