اسلام آباد(مانند میڈیا)وفاقی وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے کہاہے کہ خیبرپختونخوا میں حالیہ دنوں کے دوران دہشتگردی کے واقعات میں تشویشناک اضافہ ہوا، صدر نے آئین کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کی، جدید دور میں ممالک آئینی نظام کے تحت چلائے جاتے ہیں، آئین وہ بنیادی اور فیصلہ کن دستاویز ہے جو درحقیقت اس بات کا تعین کرتی ہے کہ ریاست کو کس طرح چلایا جائے گا؎ اسلام آباد میں وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے ہمراہ غیر ملکی میڈیا کے نمائندوں کو خیبر پختونخوا کی صورتحال پر بریفنگ دیتے ہوئے اعظم نذیر تارڑکا کہنا تھا کہ پاکستان دہشت گردی سے بری طرح متاثر ہوا ہے، یہ مسئلہ حالیہ دنوں سے شروع نہیں ہوا بلکہ اس کی جڑیں افغانستان کی جنگ یا 1970 کے اواخر میں افغانستان پر روسی جارحیت کے دور تک پھیلی ہوئی ہیں۔وزیر قانون نے کہا کہ دنیا نے دیکھا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کیخلاف یہ جنگ کس بہادری سے لڑی،ماضی قریب میں دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔جہاں تک دہشت گردی کے واقعات کا تعلق ہے تو اس کی مثال اعداد و شمار سے واضح ہوتی ہے۔تقابلی جائزے کیلئے انہوں نے گزشتہ 6 سالوں کو 2 ادوار میں تقسیم کرتے ہوئے بتایا کہ 2021 سے 2024 کے دوران خیبر پختونخوا میں دہشت گردی سے متعلق ریکارڈ کئے گئے واقعات کی تعداد تقریبا 2900 رہی جبکہ 2024 سے 2026 کے دوران یہ تعداد بڑھ کر 8600 ہوگئی، یوں ان واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔اعظم نذیر تارڑ کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا حکومت کا دہشتگردی کے معاملے پررویہ غیرسنجیدہ رہا، ملک سے دہشتگردی کا مکمل خاتمہ اور امن و امان کا قیام ہماری ترجیح ہے، بین الاقوامی برادری کو خطے میں دہشت گردی کے اسباب اور پس منظر کا ادراک ہونا چاہیے۔اس موقع پر وفاقی وزیراطلاعات عطاتارڑکا کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کیلئے اقدامات ناگزیرہیں،صوبے میں امن و امان کی قیام کیلئے ٹھوس حکمت عملی کی ضرورت ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ دہشتگردی کی روک تھام کیلئے صوبائی حکومت نے کچھ نہیں کیا مگر اب خیبرپختونخوا میں پائیدار امن کیلئے تمام وسائل کو بروئے کار لایا جائے گا،عوام کے جان و مال کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔اپوزیشن سے مذاکرات سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور صوبائی حکومت سے دہشتگردی کیخلاف اتحاد کیلئے متعدد بار مذاکرات کیے، وفاقی حکومت کا صرف ایک ہی غیر سیاسی ایجنڈا تھا کہ دہشتگردی کے خلاف متفقہ پالیسی بنے۔پی ٹی آئی اپنا سیاسی مارچ جاری رکھتی اور مطالبات بھی سامنے لاتی، ہمیں اعتراض نہ تھا،ایک ہی ملک میں دو مختلف خارجہ پالیسیاں اور نقطہ نظر ہرگز نہیں چل سکتے۔وفاقی حکومت افغانستان سے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے خاتمے کا مطالبہ کر رہی ہے، افغان حکومت قابلِ اعتماد اقدامات کرے تاکہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔خیبرپختونخوا میں حکمرانی کا نظام اور امن و امان کی صورتِ حال مکمل طور پر مفلوج ہو چکی تھی،دہشتگردوں کے زیر اثر علاقوں سے دیگر سیاسی جماعتوں کے نمائندوں کو گزرنے کی اجازت نہیں تھی۔انہوں نے کہا کہ این ایف سی ایوارڈ کے تحت خیبرپختونخوا حکومت کو 800 ارب روپے سے زائد کی خطیر رقم فراہم کی گئی، 800ارب روپے انسدادِ دہشت گردی کے شعبے کو فعال کرنے پر کیوں نہیں لگے؟ خیبرپختونخوا میں سیف سٹی کیمرے اور فرانزک لیبارٹری کیوں قائم نہیں ہوئی؟وفاقی وزیراطلاعات کا مزید کہنا تھا کہ خیبرپختونخوا کے عوام دہشت گردی کا مکمل خاتمہ چاہتے ہیں،طالبان کے پیش کردہ نظریات کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے، طالبان ایسا نظام چاہتے ہیں جہاں خواتین کو تعلیم کا حق نہ دیا جائے۔صوبے میں معدنیات، لکڑی، تمباکو اور قیمتی پتھروں کی تجارت میں اسمگلنگ ہورہی تھی، خیبرپختونخوا کیعوام کو بنیادی سہولیات، تعلیم اور صحت سے محروم رکھا گیا، جنوبی اضلاع میں دہشت گرد غیر رسمی طور پر انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنے ہوئے تھے۔وفاق اور صوبے کے درمیان معاہدے پر اتفاق ہوا مگر وزیراعلی نے اسے مسترد کر دیا، وزیر اعلی خیبرپختونخوا انسدادِ دہشت گردی کی مربوط پالیسی نافذ کرنے پر بالکل آمادہ نہیں تھے،انہوں نے سوال اٹھایا کہ صوبائی حکومت قومی ایکشن پلان اور کمیٹیوں کے اجلاسوں سے کیوں گریزاں تھی؟ خیبرپختونخوا کے عوام نے ایمرجنسی کے نفاذ کا خیرمقدم کیا،مشاورتی کونسل میں نجی و سرکاری شعبوں کا موثر امتزاج قائم کیا گیا۔