اسلام آباد (مانند میڈیا) پاکستان نے ایٹمی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری کشیدگی کے پیشِ نظر اپنی فضائی حدود میں بھارتی طیاروں کے داخلے پر عائد پابندی میں 23 نومبر تک کی توسیع کر دی ہے۔ پاکستان ایٔرپورٹس اتھارٹی کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین نوٹم (NOTAM) کے مطابق، پاکستانی فضائی حدود بھارتی رجسٹرڈ طیاروں، بھارتی ایٔرلائنز کے زیرِ استعمال یا لیز پر لیے گئے طیاروں اور ملٹری فلائٹس کے لیے دستیاب نہیں ہوگی۔ یہ نئی پابندی 17 اکتوبر کی شام 7:45 بجے سے نافذ العمل ہو چکی ہے جو 24 نومبر کی صبح 4:59 بجے تک برقرار رہے گی۔ واضح رہے کہ پاکستان نے گزشتہ برس اپریل 2025ء میں مقبوضہ کشمیر میں سیاحوں پر حملے کے بعد تعلقات شدید کشیدہ ہونے پر بھارتی طیاروں کے لیے اپنی فضائی حدود بند کر دی تھی۔ بھارت نے اس واقعے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا، جبکہ اسلام آباد نے کسی بھی قسم کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے بین الاقوامی تحقیقات کی پیشکش کی تھی۔ مئی 2025ء میں دونوں ممالک کے درمیان چار روزہ فوجی تصادم کے بعد سیز فائر تو ہو گیا تھا، لیکن سفارتی کشیدگی اور باہمی فضائی پابندیاں مسلسل برقرار ہیں۔ پاکستانی فضائی حدود کی بندش کی وجہ سے بھارتی ایٔرلائنز کو اپنے بین الاقوامی روٹس تبدیل کرنے پڑ رہے ہیں، جس سے پروازوں کا وقت، ایندھن کا استعمال اور عملے کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو چکا ہے۔ خاص طور پر ایٔر انڈیا کو شدید مالی خسارے کا سامنا ہے، جس نے اندازہ لگایا تھا کہ اس پابندی سے اسے سالانہ تقریباً 600 ملین ڈالر کا نقصان برداشت کرنا پڑ سکتا ہے۔