غزہ ( مانند میڈیا) اقوام متحدہ کے عالمی پروگرام برائے خوراک (ڈبلیو ایف پی) نے مالی وسائل کی شدید کمی کے باعث غزہ میں فلسطینیوں کے لیے غذائی امداد میں نمایاں کٹوتی کردی ہے، جس کے نتیجے میں 5 لاکھ افراد ماہانہ امداد سے محروم ہوجائیں گے۔ ادارے کے مطابق امداد حاصل کرنے والوں کی تعداد 16 لاکھ سے کم کرکے 11 لاکھ کردی گئی ہے، جبکہ خوراک کے راشن میں بھی 50 فیصد کمی کی گئی ہے۔ جنگ سے تباہ حال علاقے میں پہلے ہی لاکھوں افراد کو شدید غذائی قلت کا سامنا ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ڈبلیو ایف پی نے واضح کیا ہے کہ مالی وسائل کی کمی کے باعث غزہ میں امدادی سرگرمیاں محدود کرنا پڑ رہی ہیں۔ ادارے کے مطابق امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کو اب پہلے کے مقابلے میں کم خوراک فراہم کی جائے گی، جبکہ روزانہ تیار کھانوں کی تعداد بھی ڈھائی لاکھ سے کم کرکے ڈیڑھ لاکھ کردی گئی ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق غزہ کے دشوار گزار علاقوں میں بعض خاندانوں کو دو دن میں صرف ایک مرتبہ کھانا فراہم کیا جا رہا ہے۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ امداد میں کمی ایسے وقت میں کی جا رہی ہے جب علاقے میں انسانی ضروریات بدستور شدید ہیں اور بڑی تعداد میں فلسطینی اپنی بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے امدادی سرگرمیوں پر انحصار کرتے ہیں۔ ڈبلیو ایف پی کے تازہ جائزوں کے مطابق غزہ میں تقریباً 14 لاکھ افراد، جو آبادی کے تقریباً دو تہائی حصے کے برابر ہیں، خوراک کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں اور انہیں زندہ رہنے کے لیے انسانی امداد درکار ہے۔ ادارے کے کنٹری ڈائریکٹر شان ہیوز نے مشرقی بیت المقدس میں اپنے دفتر میں خبر رساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں لوگ محفوظ نہیں ہیں، روزانہ فضائی حملے ہو رہے ہیں اور شہریوں کی نقل مکانی کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق علاقے کے تقریباً تمام افراد مستقل رہائش سے محروم ہیں اور انسانی صورت حال انتہائی سنگین ہے۔ شان ہیوز نے کہا کہ گزشتہ سال غزہ میں قحط جیسی صورت حال کے اثرات کم کرنے میں ڈبلیو ایف پی کی امدادی سرگرمیوں نے اہم کردار ادا کیا تھا، تاہم موجودہ حالات اب بھی ایسے نہیں کہ امداد بند کی جاسکے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق امداد حاصل کرنے والے خاندانوں کو اب پہلے فراہم کیے جانے والے دو غذائی پیکجوں کے بجائے صرف ایک پیکج دیا جائے گا، جبکہ انہیں فراہم کیے جانے والے گندم کے آٹے کی مقدار بھی کم کردی جائے گی۔ نقد امداد حاصل کرنے والے 75 ہزار خاندانوں کے لیے ماہانہ رقم بھی 1٫250 اسرائیلی شیکل سے کم کرکے 750 شیکل کردی جائے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ رقم تقریباً 400 ڈالر سے کم ہوکر 240 ڈالر رہ جائے گی۔ ادارے کو غزہ اور مغربی کنارے میں آئندہ چھ ماہ کے امدادی آپریشنز جاری رکھنے کے لیے تقریباً 45 کروڑ ڈالر درکار ہیں، تاہم 2026 کے دوران فلسطینی علاقوں کے لیے اسے معمول کی مالی معاونت کا صرف نصف موصول ہوا ہے۔ ڈبلیو ایف پی کے مطابق امداد میں کمی کی بنیادی وجہ خوراک کی ترسیل تک رسائی کا مسئلہ نہیں بلکہ مالی وسائل کی قلت ہے، جس کے باعث ادارے کو اپنی امدادی سرگرمیاں محدود کرنا پڑ رہی ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ستمبر میں مغربی کنارے میں امداد حاصل کرنے والے افراد کی تعداد بھی 4 لاکھ سے کم کرکے 2 لاکھ کردی گئی تھی۔ ادارے نے خبردار کیا ہے کہ غزہ میں اگرچہ حالات میں کچھ بہتری آئی ہے، لیکن موسم سرما کی آمد کے ساتھ انسانی ضروریات میں دوبارہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ ڈبلیو ایف پی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ فلسطینی علاقوں میں جاری انسانی بحران سے توجہ نہ ہٹائی جائے اور متاثرہ آبادی کے لیے ضروری مالی وسائل فراہم کیے جائیں۔ اقوام متحدہ کے مربوط غذائی تحفظ مرحلہ جاتی درجہ بندی کے ادارے نے گزشتہ سال اگست میں غزہ میں قحط کی صورت حال کی تصدیق کی تھی۔ بعد ازاں جنگ بندی کے اعلان کے تقریباً دو ماہ بعد دسمبر میں قحط کی درجہ بندی ختم کردی گئی، تاہم رپورٹس کے مطابق اس کے بعد بھی اسرائیلی حملے جاری رہے۔ جنگ بندی کے بعد ڈبلیو ایف پی اپنی امدادی سرگرمیوں میں اضافہ کرنے میں کامیاب رہا تھا اور ہر ماہ 15 لاکھ سے 18 لاکھ افراد تک امداد پہنچائی جا رہی تھی۔ تاہم مالی وسائل میں کمی کے باعث اب امداد بڑھانے کے بجائے محدود کرنا پڑ رہی ہے، جس سے غزہ اور دیگر فلسطینی علاقوں میں غذائی تحفظ سے متعلق خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے