مظفرآباد( مانند میڈیا) آزاد جموں و کشمیر کے محکمہ داخلہ نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مزید 25 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی منظوری دے دی۔ 16 اکتوبر 2026ء کو جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق فہرست میں نیلم، پونچھ، سدھنوتی، باغ اور میرپور سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام شامل ہیں۔ محکمہ داخلہ کے نوٹیفکیشن نمبر HomeHS-FS-4(8) P-IV2026 کے مطابق یہ منظوری آزاد جموں و کشمیر کابینہ کے 5 جون 2026ء کو ہونے والے 41ویں اجلاس کے فیصلے کی روشنی میں انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014ء کی دفعہ 16(1) کے تحت دی گئی ہے۔ نوٹیفکیشن میں متعلقہ افراد کو جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (JK-JAAC) کے کارکن قرار دیا گیا ہے، جسے نوٹیفکیشن میں مذکورہ قانون کی دفعہ 12 کے تحت کالعدم تنظیم لکھا گیا ہے۔ نوٹیفکیشن کے ساتھ منسلک فہرست میں مجموعی طور پر 25 افراد کے نام درج ہیں۔ ان میں نیلم سے دو، پونچھ سے 16، سدھنوتی سے چار، باغ سے ایک اور میرپور سے ایک شخص شامل ہے۔ ایک نام کے اندراج میں بھی ضلع پونچھ درج ہے، تاہم فہرست کے تمام اندراجات کی الگ سے تصدیق ضروری ہے۔ اس سے پہلے جون 2026ء میں آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے کارکنوں اور رہنماؤں کو فورتھ شیڈول میں شامل کرنے کی کارروائی سامنے آئی تھی۔ مختلف ذرائع ابلاغ نے اس کارروائی کے تحت 147 افراد کے نام شامل کیے گئے تھے۔بعد ازاں 10 اگست 2026ء کو مزید 10 افراد کو فورتھ شیڈول میں شامل کیے گئے ۔اس کے بعد، 10 اکتوبر 2026ء کو جاری ہونے والی فہرست کے مطابق اس میں 21 مزید افراد کا اضافہ کیا گیا ، جبکہ نوجوان صحافیکارکن (کوکب راٹھور) کا نام اس فہرست سے خارج کر دیا گیا فورتھ شیڈول میں نام شامل ہونے کا مطلب بذاتِ خود کسی شخص کو کسی جرم میں سزا یافتہ قرار دینا نہیں ہے۔ متعلقہ قانون اور حکومتی احکامات کے تحت فہرست میں شامل افراد کو نگرانی، پولیس کو رپورٹ کرنے اور نقل و حرکت یا بعض سرگرمیوں سے متعلق پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان پابندیوں کی نوعیت متعلقہ قانونی حکم اور انفرادی معاملے پر منحصر ہوتی ہے۔ اس کارروائی کے بعد شہری آزادیوں، قانونی طریق? کار اور بنیادی حقوق سے متعلق سوالات بھی اہم ہو جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ متعلقہ حکام فیصلے کی قانونی بنیاد، متاثرہ افراد کے لیے دستیاب اپیل یا نظرثانی کے طریق? کار اور عائد کردہ پابندیوں کی وضاحت کریں۔