لاہور (مانند میڈیا)دریائے چناب اور جہلم کے سنگم والے علاقے صحرائے تھل میں منعقد ہونے والاتین روزہ ” جھنگ ڈیزرٹ ریلی اینڈ کلچرل فیسٹیول”اختتام پذیر ہو گیا۔تفصیلات کے مطابق فیسٹیول کی کوریج کیلئے خصوصی طور پر کراچی سے ضلع جھنگ جانے والے کراچی کے معروف صحافی حافظ محمد صالح کی رپورٹ کے مطابق جنوبی پنجاب اور خصوصاً جھنگ کی ثقافت اور سیاحت کو فروغ دینے کیلئے ضلعی انتظامیہ کے زیر اہتمام تحصیل 18 ہزاری کے علاقے رحمت آباد میں 16 سے 18 اکتوبر 2026ء تک منعقد ہونے والے ” جھنگ ڈیزرٹ ریلی اینڈ کلچرل فیسٹیول”کے دلکش اور یاد گار ایونٹ میں سنسنی خیز ی سے پھر پور آف روڈ ریسنگ کیساتھ ساتھ روایتی کھیل کبڈی ،نیزہ بازی ، والی بال اور گھوڑا ڈانس، گھڑ سواری ،لوک موسیقی کے پروگرامز منعقد ہوئے، فیسٹیول میں مقامی دستکاریوں اور مختلف کھانوںکے اسٹالز بھی لگائے گئے جبکہ شائقین کے ٹھہرنے کیلئے کیمپنگ کی سہولت بھی مہیا کی گئی تھی۔فیسٹیول سے جھنگ کی بھرپور تاریخ اور ثقافت کو اُجاگر کرنے کا موقع ملا۔فیسٹیول میں مختلف ریس کیٹگریزجن میں اسٹاک، ویٹرنز، وومن اور بائیک ریسنگ کے سنسنی خیز مقابلے بھی منعقد ہوئے ۔صحرائے تھل میں پہلی بار منعقد ہونے والی پہلی جھنگ ڈیزرٹ جیپ ریلی کیلئے95 کلومیٹر طویل ٹریک تیار کیا گیا تھا، جس میں ملک بھر سے خواتین سمیت100 کے قریب نامور ڈرائیورز اور رائڈرز نے شرکت کی۔ جیپ ریلی کے اسٹاک کیٹگری کے دلچسپ اور سنسنی خیز مقابلوں میں رب نواز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ٹائٹل جیتا تھا، انہوں نے 78 کلومیٹر کا دشوار گزار فاصلہ 59 منٹ 20 سیکنڈ میں طے کرکے پہلی پوزیشن حاصل کی، راشد گورایہ نے چار سیکنڈ کے فرق سے دوسری اور سلطان بہادر عزیز نے تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔ جیپ ریلی کے وومن کیٹگری مقابلوں میں دینا پٹیل نے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے پوڈیم پر جگہ بنائی تھی۔ ویٹرنز کیٹگری میں ابتدائی چار پوزیشن لینے والے ڈرائیورز پر پنالٹی لگائی گئی جس کے بعد ان کی پوزیشنزتبدیل ہوئی جس کے بعدمیر نادر خان مگسی چمپئن قرار پائے اور خالد حمیدخان پہلی سے دوسری پوزیشن پر چلے گئے، گوادر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے سابق صدر جیند ہوت بلوچ نے تیسری اور صاحبزادہ سلطان محمد علی نے چوتھی پوزیشن حاصل کی۔پہلی جھنگ ڈیزرٹ ریلی کے ان مقابلوں نے شائقین کی بھرپور توجہ حاصل کی جبکہ ڈرائیورز کی مہارت، رفتار اور اعصاب پر قابو رکھنے کی صلاحیت نے ایونٹ کو یادگار بنا دیا۔ ریلی کے مقابلوں میں نمایاں کارکردگی دکھانے والے ڈرائیورز کی کامیابی نے موٹر اسپورٹس کے فروغ کے حوالے سے بھی مثبت پیغام دیا