واشنگٹن(مانند میڈیا)امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران جنگ میں ناکامیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کیلئے  اپنے دو اہم مشیروں، وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کی کارکردگی کا جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔امریکی جریدے دی اٹلانٹک کی ایک رپورٹ کے مطابق ٹرمپ نے اپنے قریبی مشیروں سے ہیگسیتھ کی کارکردگی کے بارے میں سوالات کیے ہیں اور انہیں جنگی حکمت عملی کی ناکامیوں کا ذمہ دار قرار دے کر عہدے سے ہٹانے پر بھی غور کیا جارہا ہے۔رپورٹ میں صدر ٹرمپ کے قریبی دو بیرونی مشیروں اور دیگر باخبر شخصیات کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ صدر نے جنرل ڈین کین کی کارکردگی کے بارے میں بھی رائے طلب کی ہے۔ ان شخصیات کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی جانب سے ان دونوں عہدیداروں کے بارے میں مشاورت کابینہ میں تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق ایک مشیر نے کہا کہ ہیگسیتھ صدر کو وہی بات بتانے میں مہارت رکھتے ہیں جو وہ سننا چاہتے ہیں۔ وزیر دفاع اور جنرل ڈین کین ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کو فوجی مشورے دیتے رہے ہیں، جبکہ ہیگسیتھ اس جنگ کے حوالے سے امریکی انتظامیہ کا نمایاں چہرہ رہے ہیں۔ وہ مسلسل یہ مقف دہراتے رہے ہیں کہ ایران جنگ سے پہلے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کررہا تھا۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ ٹرمپ وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر دوبارہ حملے کرنے یا جنگ ختم کرنے کے امکانات پر غور کررہے ہیں۔ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین نے انہیں ممکنہ فوجی کارروائیوں کے مختلف منصوبے پیش کیے ہیں، جن میں چند روز سے کئی ہفتوں تک حملے جاری رکھنے اور جنگ مکمل طور پر ختم کرنے کا آپشن بھی شامل ہے۔ تاہم ٹرمپ نے تاحال دوبارہ حملے شروع کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا۔رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتوں میں ٹرمپ نے جنگ کے حوالے سے سخت برہمی کا اظہار کیا ہے اور اپنی سیاسی مشکلات کا ذمہ دار بھی ایران جنگ کو قرار دیا ہے۔دوسری جانب وائٹ ہاؤ س کی ترجمان اینا کیلی نے دی اٹلانٹک کو بتایا کہ صدر ٹرمپ اور وائٹ ہاؤ س کو وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور جنرل ڈین کین دونوں کی صلاحیتوں اور کارکردگی پر مکمل اعتماد ہے اور دونوں صدر کے مشن کے ساتھ مکمل ہم آہنگ ہیں۔ وائٹ ہاؤ س اور محکمہ دفاع نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔واضح رہے کہ پیٹ ہیگسیتھ امریکی محکمہ دفاع کے سربراہ ہیں، جبکہ جنرل ڈین کین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین ہیں۔ دونوں ایران جنگ کے دوران صدر ٹرمپ کو فوجی حکمت عملی سے متعلق مشورے دیتے رہے ہیں۔دی اٹلانٹک کی رپورٹ میں عہدیداروں کی تبدیلی کے امکان کو مشیروں کی گفتگو اور ٹرمپ کے سابقہ طرزِعمل کی بنیاد پر بیان کیا گیا ہے، تاہم وائٹ ہاس نے دونوں عہدیداروں پر اعتماد کا اظہار کیا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے