کراچی (مانند نیوز) نیلی سونامی نے ناقابل شکست تاثر پاش کردیا، حتمی فیصلہ عوام کا، سیاسی منظر نامہ تبدیل، امریکا میں ڈیموکریٹس کی نیلی سونامی، آمرانہ حکمرانوں کیلئے انتباہ، 71 فیصد نوجوانوں کا ڈیموکریٹس کو ووٹ،  ٹرمپ حامی لوٹ آئے، غیرمعمولی تبدیلی، سیکولر جمہوریت مساوی شہریت دیتی ہے، آمرانہ سوچ خوف بیچتی ہے، خاموشی رضامندی نہیں۔

تفصیلات کے مطابق محض تاریخ کی گواہی یہ ہے کہ جمہوریت جب خود کو ثابت کرنے پر تُل جائے، یا پلٹ کر وار کرے تو پھر "عام انتخابات” حکومتیں نہیں بدلتے، بلکہ وہ اقتدار کے نشے میں مست حکمرانوں کو ان کی اصل حیثیت یاد دالتے ہیں، سیاسی طاقت کے گرد قائم کئے گئے ناقابل ِ شکست ہونے کا تاثر پاش پاش کرتے ہیں اور ثابت کرتے ہیں کہ آخری فیصلہ بہرحال عوام ہی کا ہوتا ہے۔ 

انتخابات نے کچھ ایسا ہی کر دکھایا امریکا کے حالیہ وسط مدتی ہے۔ سیاسی منظر نامہ تبدیل کرنے والے اس عوامی فیصلے کو امریکی میڈیا "نیلی سونامی” قرار دے رہا ہے۔ ڈیموکریٹس کی شاندار کامیابی اور کانگریس کے دونوں ایوانوں میں اکثریت نے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس خوش فہمی کو شدید دھچکا پہنچایا ہے کہ انہیں شکست دینا تقریبا ً ناممکن ہے۔ 

میگا تحریک کے وہ تمام رہنما اور حامی، جن کا خیال تھا کہ وہی امریکی عوام کی حقیقی اور واحد آواز ہیں، انہیں ایک تلخ اور چونکانے والی حقیقت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ حد تو یہ MAGA (شکست کا منہ ہے کہ اس بار ریپبلکن کو ان ریاستوں میں بھی دیکھنا پڑا، جو کئی دھائیوں سے ان کا سیاسی قلعہ سمجھتی جاتی تھیں۔ 

اس سے بھی عبرتناک بات یہ کہ ٹرمپ کے بعض روایتی حامی بھی حریفوں کی صف میں شامل ہوگئے ہیں۔ قیقت کی یاد دہانی تاہم اس نیلی سونامی کی اہمیت محض ایک صدر یا اس کی جماعت کی شکست تک محدود نہیں۔ یہ اس ح بھی ہے کہ ایک ایسی دنیا میں، جہاں آمریت، مذہبی قوم پرستی، نسلی برتری اور عدم برداشت کی سیاست تیزی سے فروغ پا رہی ہے، وہاں جمہوریت، خصوصا ً سیکولر جمہوریت، کیوں ناگزیر ہے۔ 

ان انتخابات کا سب سے حوصلہ افزا پہلو یہ ہے کہ مختلف نسلوں، مذاہب، قومیتوں اور معاشی طبقات سے تعلق رکھنے والے امریکی شہریوں نے اپنے اختلافات سے باالتر ہوکر ایک ایسی سیاسی تحریک کو چیلنج کیا جس کی طاقت ہی ان اختلافات کو ہوا دینے میں پوشیدہ تھی۔ یہی سیکولر جمہوریت کی اصل خوبی ہے۔ یہ مختلف عقائد، ثقافتوں اور شناختوں کے حا مل افراد کو مساوی شہری کی حیثیت سے ایک ساتھ رہنے کا حق دیتی اور اجتماعی ترقی کی راہ ہموار کرتی ہے۔ 

سیکولر جمہوریت کسی سے اس کا مذہب یا ثقافتی شناخت ترک کرنے کا تقاضا نہیں کرتی، بلکہ صرف یہ اصول تسلیم کرنے کو کہتی ہے کہ ریاست پر کسی ایک مذہب، نسل یا گروہ کا دوسروں سے زیادہ حق نہیں۔ قانون پر عمل کرو، انسانیت کا احترام کرو، علم و تحقیق میں ایک دوسرے کا ساتھ دو اور تمام تعصبات سے پاک ہوکر دنیا کو جینے اور آگے بڑھنے کے لائق بناتے چلے جاؤ۔

یہ ہے سیکولر جمہوریت کا مطالبہ۔۔۔ حکمران انہی اس کے برعکس آمرانہ سوچ رکھنے والے تقسیموں سے اپنی سیاسی طاقت حاصل کرتے ہیں۔ وہ فرضی دشمن پیدا کرتے ہیں، مذہبی تقسیم اور قوم پرستانہ جذبات کو بھڑکاتے ہیں اور اپنے حامیوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ ان کی شناخت، ثقافت، بلکہ ان کا وجود تک خطرے میں ہے۔ خوف ان کا سب سے مؤثر سیاسی ہتھیار بن جاتا ہے۔ 

خوش آئند بات یہ ہے کہ امریکی ووٹرز نے ثابت کردیا کہ اس منفی اور خوفناک سیاست کو شکست دی جاسکتی ہے۔ 29 سے امریکی مڈٹرم الیکشن کا سب سے اہم پیغام شاید نوجوان نسل کی طرف سے آیا ہے۔ ٹفٹس یونیورسٹی کے تحقیقی ادارے سرکل ( 18 ار کے مطابق ) کے ابتدائی اعداد و شم فیصد ووٹرز نے ایوان ِ نمائندگان کے 71 CIRCLE سال کی عمر کے فیصد 25 انتخابات میں ڈیموکریٹس کی حمایت کی، جبکہ صرف نے ری پبلکن امیدواروں کو ووٹ دیا ہے۔ 

نوجوان مرد ووٹرز، جن کا ایک بڑا حصہ کے صدارتی انتخابات میں ٹرمپ 2024ہ ڈیموکریٹس کی طرف لوٹ آیا۔ یہ ایک غیر معمولی سیاسی تبدیلی ہے۔ کی طرف مائل ہوا، وہ دوبار یہ نتائج اس عام تاثر کی بھی نفی کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل دنیا میں گُ م نوجوان سیاست سے التعلق ہو چکے ہیں۔ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جب نوجوانوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان کا مستقبل داؤ پر لگ رہا ہے تو وہ سیاسی تبدیلی کی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔ 

قبول جنگ یہاں یہ سمجھنا بھی سادگی ہوگی کہ ٹرمپ کے مخالف ووٹ دینے والا ہر شخص جمہوری اقدار کے تحفظ کے جذبے سے سرشار تھا۔ سچ یہ ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی، معاشی بے یقینی، حکومتی بدعنوانی اور ایران کے خلاف غیر م نے بھی ٹرمپ کی "عالمگیر سبکی” میں اہم کردار ادا کیا۔ جمہوریت کا حسن ہی یہی ہے۔ یعنی کسی حکومت کا احتساب کرنے کے لئے ضروری نہیں کہ تمام لوگ ایک ہی نظریہ رکھتے ہوں یا ان کی شکایات ایک جیسی ہوں۔ 

نوجوانوں کی اس تحریک نے بلآخر بھارتی حکمرانوں کو ردعمل دینے اور بعض مطالبات تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔ یورپی ممالک میں بھی جمہوری حقوق، معاشی اسی طرح کئی یور مشکالت اور حکومتی پالیسیوں کے خالف احتجاجی تحریکوں نے سیاسی حکمرانوں کو چیلنج کیا ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ تمام تحریکیں نظریاتی طور پر ایک دوسرے سے منسلک ہوں یا سب لبرل جمہوریت کی نمائندگی کرتی ہوں۔ لیکن ان میں ایک ً قدر مشترک ضرور ہے۔ معاشرے کے مختلف طبقات، خصوصا نوجوان، اب غیر مشروط اطاعت اور بے لگام اقتدار کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں۔ 

یہ دنیا بھر کے حکمرانوں کے لئے ایک سبق ہے۔ کنٹرول، آمرانہ حکمران اکثر خاموشی کو عوامی رضامندی سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں۔ انہیں یقین ہوتا ہے کہ میڈیا صحافیوں کو خوفزدہ کرنے، سیاسی مخالفین کو جیلوں میں ِڈالنے اور ریاستی اداروں کو اپنے تابع کرنے سے اختالف رائے ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنے گرد ایسے مشیروں اور تبصرہ نگاروں کا حصار قائم کر لیتے ہیں جو انہیں مسلسل یہی یقین دالتے رہتے ہیں کہ سب اچھا ہے اور پوری قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ 

کچھ عرصے تک شاید یہ حکمت ِعملی کامیاب بھی دکھائی دیتی ہے مگر پھر کوئی نیلی، پیلی یا سُرخ سونامی سارا منظر بدل دیتی ہے۔ بیان کرنے ماننا ہوگا کہ ٹیلی وژن پر کسی مسئلے کا ذکر بند کر دینے سے عوام کا غصہ ختم نہیں ہوتا۔ اخبارات کو حقیقت سے روک دینے سے لوگوں کی محرومیاں دور نہیں ہوتیں۔ یہ غصہ اندر ہی اندر جمع ہوتا رہتا ہے، یہاں تک کہ اسے اظہار کا کوئی راستہ مل جاتا ہے۔

تاریخ خود کو ناقابل شکست سمجھنے والی ایسی بہت سی حکومتوں کے انجام سے بھری پڑی ہے جنہوں نے جبر کو اپنا دو ام اور استحکام سمجھنے کی غلطی کی اور عبرت کا نشان بن گئیں۔ امریکی انتخابات میں واشنگٹن کے لئے بھی ایک اہم پیغام پوشیدہ ہے۔ غزہ میں ہونے والی تباہی، جسے بائیڈن اور ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل رہی، ا ُس نے انسانی حقوق اور جمہوریت کے عالمی علمبردار ہونے کے امریکی دعووں کی قلعی کھول دی ہے۔ 

فلسطینیوں کی بے پناہ تکالیف کو محض جغرافیائی سیاست کی مجبوری قرار دے کر نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ڈیموکریٹس صرف ٹرمپ کو شکست دے کر اس تباہی میں اپنی ساجھے داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتے۔ انہیں عملی طور پر یقینا کچھ ایسا کرنا ہوگا کہ امریکی دامن پر لگا یہ نہ مٹنے واال داغ کچھ دھندال تو ہوسکے۔۔ بہت سے نوجوان امریکیوں کے لئے غزہ اب محض خارجہ پالیسی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک اخالقی سوال بن چکا ہے، جو روایتی جماعتی وابستگیوں سے کہیں بڑا ہے۔ 

نئی کانگریس کو سمجھنا ہوگا کہ اپنے ملک میں جمہوری اقدار کے تحفظ کا دعوی ٰ کرتے ہوئے دنیا کے دوسرے خطوں میں انہی حقوق کی پامالی کی حمایت کرنا ایک ایسا تضاد ہے جس کا دفاع اب ممکن نہیں رہا۔ اور پھر ایران کی جنگ ہے۔ امریکا اور اسرائیل کی جانب سے شروع کی گئی اس جنگ کے اصل حقائق پ وری دنیا جانتی ہے مگر بظاہر اسے تہران میں بڑی حد تک سیاسی قیادت کی تبدیلی اور جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیالو سے جوڑا گیا۔ 

تاہم اس جنگ نے ایک عجیب تاریخی صورت ِ حال پیدا کر دی ہے۔ کیونکہ تہران کی قیادت چہروں کی تبدیلی کے باوجود بنیادی طور پر برقرار ہے جبکہ واشنگٹن اور تل ابیب میں بھی سیاسی توازن وہ نہیں رہا جو اس جنگ سے پہلے تھا۔ ٹرمپ کی اس عسکری مہم نے، جس کے علاقائی اور عالمی نتائج کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی، خود امریکا میں ان کے خالف عوامی ردعمل کو مزید تقویت دی۔ 

یعنی جو صدر فوجی طاقت کے ذریعے مشرق ِ وسطی ٰ کا نقشہ بدلنا چاہتا تھا، اب ا ُسے اپنے ہی ملک میں ایک ایسی کانگریس کا سامنا ہوگا، جو اس کے مخالفین کے قبضے میں چلی گئی ہے۔ ٹرمپ جیسے خود سر و خود پسند شخص کیلئے اس سے بڑی ستم ظریفی اور کیا ہوسکتی ہے؟ یقینا ً ٹرمپ اب بھی صدر ہیں اور ڈیموکریٹس کی کامیابی اس بات کی ضمانت نہیں کہ امریکی خارجہ پالیسی اچانک زیادہ منصفانہ ہو جائے گی۔ 

لیکن کانگریس کو اب یہ موقع، بلکہ ذمہ داری، ضرور حاصل ہے کہ وہ انتظامیہ کے غیر ضروری اقدامات کو چیلنج کرے اور اس سے جواب طلبی کرے۔ پاکستان کے لئے ان تمام واقعات میں ایک سنجیدہ انتباہ موجود ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے