ملاکنڈ (مانند نیوز) گرینڈ جرگہ ملاکنڈ نے ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے پورے ڈویژن میں احتجاجی تحریک شروع اور احتجاجی دھرنے دینے کرنے کا اعلان کردیا۔سخاکوٹ کے مقامی شادی ہال میں جماعت اسلامی ملاکنڈ کے زیر اہتمام ملاکنڈ کے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین پر مشتمل گرینڈ جرگہ میں تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین تاجر برادری صحافیوں اور منتخب ممبران نے بھرپور شر کت کی۔ اس موقع پرصوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی نائب آمیر عنایت اللہ خان مہمان خصوصی تھے۔ اس موقع پر مطالبہ کیا گیا کہ حکومت فوری طور پر ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ واپس لیکر ڈویژن کے عوام کے لئے ریلیف پیکج کا اعلان اور ساتھ ہی ہائیڈل پاؤر سے بننے والے بجلی آمدن ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اور علاقے کے ترقی پر خرچ کرنے کے لئے اقدامات کریں کیونکہ ملاکنڈ ڈویژن ایک پسماندہ ڈویژن ہے جبکہ سیلاب، زلزلہ اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پورے ڈویژن کے انفرسٹرکچر اور کاروبار بُری طرح مفلوج ہو چکا ہے اور ایسے میں یہاں کے عوام پر ٹیکس کا اضافی بوجھ ڈالنا ان کے معاشی قتل کے مترادف ہے۔ جماعت اسلامی ملاکنڈ کے زیر اہتمام گرینڈ جرگہ سے عنایت اللہ خان سمیت سابق صوبائی وزیر شاہ رازخان جماعت اسلامی کے ضلعی نائب آمیر مولانا جمال الدین حاجی رضوان اللہ تحصیل آمیر فضل وہاب خان جنرل سیکرٹری رشید احمد قاضی محمد طاہر پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماء حاجی نیک محمد خان سابق سیکرٹری گوڈ گورننس ملاکنڈ میاں اسلام بادشاہ حارث خان ساگر عوامی نشنل پارٹی ملاکنڈ کے ضلعی جنرل سیکرٹری محمد ارشاد خا ن مہمند جمعیت علماء اسلام ملاکنڈ کے جنرل سیکرٹری مولانا سلمان تاثیر خان ممبر شوریٰ اصغر خان تحریک اتحاد قبائل ملاکنڈ کے صدر شفیع اللہ سواتی جنرل سیکرٹری حاجی آمیر زمان خان پی پی پی کے سابق ممبر ضلع کونسل اور گرینڈ اصلاحی جرگہ درگئی کے صدر حاجی اکرم خان متحدہ ٹریڈ یونین سخاکوٹ کے صدر حمید خان لالا ٹریڈ یونین ملاکنڈ کے حاجی شاکر اللہ خان چیمبر آف کامرس ملاکنڈ کے شیر عالم خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنماء محمد نثار خان سمیت مسلم لیگ ن کے رہنماء چیئرمین کونسلرز اتحاد ملاکنڈ کے صدر پیر عظمت شاہ چیئرمین کونسلر ز اتحاد درگئی کے صدر میاں عالمگیر باچہ  اور دیگر علاقائی مشران اور سیاسی قائدین نے خطاب کیا۔ مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کو حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف نہیں مل رہی ہے اور نہ ہی یہاں کے عوام کو زندگی کے بنیادی سہولیات فراہم کئے جارہے ہیں حالانکہ ملاکنڈ ڈویژن کو ٹیکس فری زون کی حیثیت آئین پاکستان نے دی ہے لیکن دہشت گردی کے خلاف جنگ سیلاب اور زلزلہ سے بُری طرح متاثر ہونے، بے روزگاری اور مہنگائی میں ہو شربا اضافے کے باوجود یہاں کے عوام پر 2023 میں ظالمانہ ٹیکس نافذ کرنے کی باتیں یہاں کے مفلوج الحال عوام کے معاشی قتل کے مترادف ہیں جسے ہم کسی صورت ماننے کے لئے تیار نہیں ہے۔ مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ میں اپنے وسائل سے کئی گنا زیادہ بجلی پیدا کی جارہی ہے لیکن ان کے ثمرات سے یہاں کے عوام محروم ہیں اس لئے اگر حکومت یہاں ٹیکس نافذ کرنا چاہتی ہے تو پہلے یہاں کے عوام کی حالت زندگی بہتر بنانے کے لئے اقدامات کریں اور ساتھ ہی ملاکنڈ کو بجلی لوڈشیڈنگ سے نجات دلائی جائے۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان نے متفقہ اعلامیہ جاری کیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے محدوش حالات اور کمر توڑ مہنگائی، بے روزگاری اور بدآمنی کے واقعات کو دیکھتے ہوئے 2023میں اعلان کردہ ٹیکس نفاذ کو حالات سازگار اور لوگوں کی حالت زندگی بہتر ہونے تک ظالمانہ ٹیکسز سے نجات دلائی جائے کیونکہ یہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام کا آئینی حق بھی ہے۔  اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ ملاکنڈ تھری پاؤر پراجیکٹ سے رائلٹی کی مد میں 10فیصد حصہ ملتا ہے جسے بڑھا کر 20فیصد کیا جائے اور اب تک جو بقایاجات ہیں انہیں فوری طور پر ادا کئے جائیں۔ گرینڈ جرگہ کے موقع پر تحصیل درگئی کو سوات موٹر وے سے منسلک کرنے، تحصیل بٹ خیلہ کے بائی پاس اور لنک روڈز کی محدوش حالت پر غور کرنے، سوات موٹر وے برائے مینگورہ  جس پر 58ارب روپے خرچ ہونگے سے قیمتی زمینوں کو 600ارب کا نقصان ہونے کا خدشہ ہے اس لئے اسکا ڈیزائن تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر تحصیل بٹ خیلہ کے لئے گرلز کالج اور ٹیکنیکل کالج کے لئے فنڈز اور زمین موجود ہونے کے باوجود 8سالوں سے عمل در آمد نہ ہونے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے جلد تعمیر کرنے کا مطالبہ کیا گیا جبکہ وزیر اعظم ہاؤسنگ اسکیم میں بائزی تحصیل کو ایڈجسٹ کرنے کی قرارداد متفقہ طور پر منظور کی گئی۔اعلامیہ میں مطالبہ کیا گیا کہ انڈسٹریل زون کی منظوری، انڈسڑیز کے لئے رعایتی نرخوں پر بجلی فراہمی، ملاکنڈ تھری پاؤر پراجیکٹ سے 10میگا واٹ بجلی بغیر ٹرانسمیشن چارجز کے دینے، وار آن ٹیرز کے نام پر ملاکنڈ ڈویژن کے لئے منظور شدہ رقم یہاں کے عوام اور انفراسٹرکچر پر خرچ کیا جائے۔اپنے خطاب میں سابق صوبائی وزیر عنایت اللہ خان اور سابق صوبائی وزیر شاہ راز خان نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف ہر فورم پر آواز اٹھائینگے اور پہلے مرحلے میں مذاکرات ہونگے جس کے بعد مظاہروں اور احتجاجی دھرنے کے لئے کال دینگے اور پورے ڈویژن میں پہیہ جام ہڑتال کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ ہم زیر لوڈشیڈنگ کے حق دار ہیں لیکن 90فیصد ریکوری کے باوجود یہاں کے عوام بجلی کے لئے ترس رہے ہیں اس لئے سسٹم کو آپ گریڈکرنا حکومت اور واپڈا کی ذمہ داری ہے جبکہ سزا یہاں کے عوام کو دی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے صحافی اور سوشل میڈیا ایکٹیویسٹ ٹیکس نفاذ کے خلاف مہم میں گرینڈ جرگہ کا بھر پور ساتھ دیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کو این ایف سی ایوارڈ میں حصہ ملاکنڈ ڈویژن کے پسماندگی کی وجہ سے مل رہا ہے جبکہ ملاکنڈ ڈویژن کے ہائڈل پاؤر سے وسیع مقدار میں بجلی، ماربل، جنگلات، پانی اور دیگر مدات میں بلین ڈالرز کی ریوینیو دے رہا ہے۔ گرینڈ جرگہ سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی اسمبلی میں جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر اور صوبائی نائب صدر عنایت اللہ خان نے کہا کہ یہ گرینڈ جرگہ در اصل قومی جرگہ ہے جس کے مقصد ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ سے قبل عوام اور قومی قیادت کو اعتماد میں لینا ہے۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے