کوئٹہ(مانند نیوز ڈیسک)بلوچستان کے محکمہ خوراک نے کہا ہے کہ صوبے میں گندم کا صرف 10 ہزار بوریوں کا اسٹاک باقی رہ گیا۔صوبائی محکمہ خوراک نے کہا کہ بلوچستان حکومت نے پاسکو سے گندم کی 2 لاکھ بوریوں کی خریداری کا معاہدہ کیا ہے۔محکمہ خوراک کا کہنا ہے کہ ضلع لیہ پنجاب سے آج (منگل کو)گندم کی 2 لاکھ بوریاں بلوچستان پہنچ جائیں گی جبکہ دیگر صوبوں سے گندم کی نقل و حمل بند ہونے سے قلت کا سامنا ہے۔صوبائی محکمہ خوراک نے کہا کہ مل مالکان کو دسمبر کا کوٹہ دے دیا گیا، جلدی جنوری کا کوٹہ بھی مل جائے گا۔فلور ملز مالکان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی 18 ملوں کو یومیہ گندم کی 25 ہزار بوریوں کی ضرورت ہے، حکومت گندم کی 9 سے 10 لاکھ بوریوں کا فوری بندوبست کرے۔ملز مالکان نے کہا کہ چند دن میں گندم دستیاب نہ ہوئی تو مارکیٹ میں آٹا ملنا مشکل ہو جائے گا۔واضح رہے کہ کوئٹہ میں گندم کے بحران کی وجہ سے آٹے کے 20 کلو کے تھیلے کی قیمت 2600 روپے تک پہنچ گئی ہے۔