پشاور(مانند نیوز ڈیسک) صوبائی دارلحکومت پشاور میں چائلڈ لیبر ایک بار پھر بڑھنے لگا جبکہ متعلقہ اداروں کی اس حوالے سے پر اسرار خاموشی نے کئی سوالات کو جنم دے دیا۔ شہر کے مختلف بازاروں سمیت ورکشاپس اور دیگر کام کرنیوالی جگہوں پرکم سن بچوں سے مشقت کروائی جارہی ہے جبکہ متعلقہ ادارے اور بچوں کے حقوق کیلئے کام کرنیوالے غیر سرکاری تنظیموں نے چھپ سادھ لی ہے۔پڑھنے کی عمر میں بچوں سے مشقت لینے میں والدین بھی برابر کے ذمہ دار ہیں۔ اسکے علاوہ یونیورسٹی کیمپس پشاور سمیت بی آر ٹی سٹیشنوں کی سیڑھیوں پر بھی کمسن بچے ہاتھوں میں ماسک اور دیگر چھوٹی موٹی اشیاء لیکر فروخت کرتے نظر اتے ہیں جبکہ بعض بچے بھیک بھی مانگتے ہیں۔