ڈی آئی خان(مانند نیوز)نیب نے علی امین گنڈا پور کے پورے خاندان کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کر لیں ڈی آئی خان: نیب خیبر پختونخوا نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کو اس حوالے سے مراسلہ جاری کیا تھا ڈی آئی خان: علی امین اور خاندان کے دیگر افراد سے جائیداد کے حوالے سے معلومات جمع کرنے کی ہدایات سابق وفاقی وزیراعلیٰ امین گنڈا پور کیلئے احتساب کا شکنجہ تیار قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے سابق وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کے والدین، بھائیوں اور بچوں کی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرلی گئی ہیں۔ نیب کی جانب سے علی امین گنڈا پور اور قریبی رشتہ داروں کی جائیدادوں کی چھان بین کی جائے گی۔ اس سلسلے میں نیب نے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کو مراسلہ ارسال کرکے جائیدادوں کی تفصیلاب طلب کرلی ہیں۔ڈپٹی کمشنر کو علی امین کے والدین، بھائیوں اور بچوں کی جائیدادوں کی تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔دوسری جانب سابق وزیر کے خلاف بھی نیب تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیب نے ڈپٹی کمشنر سے علی امین کے اثاثوں کی تفصیل بھی طلب کی ہیں۔تحقیقات کیلئے ڈپٹی کمشنر نے اے ڈی سی کو انکوائری آفیسر مقرر کیا ہے۔ڈیرہ اسماعیل خان….نیشنل اکاﺅنٹیبلٹی بیورو پشاور کی جانب سے ڈپٹی کمشنر ڈیرہ اسماعیل خان کو ایک لیٹر جاری کیا گیا ہے جس میں امین برادران کی مکمل جائیدادوں کی تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ ڈپٹی کمشنر ڈیرہ کو نیب پشاور کی جانب سے جاری ہونے والے لیٹر میں کہا گیا ہے کہ نیب کو موصولہ ایک شکایت کے زمرے میں علی برادران کی تمام جائیداد کی ویری فیکیشن درکار ہے۔ نیب کی طرف سے جاری ہونے والے لیٹر میں باقاعدہ طور پر سابق صوبائی وزیر علی امین کے والد امین اللہ خان اور ان کی اہلیہ وبیٹیوں‘ علی امین خان اور ان کی اہلیہ‘ بیٹی اور بیٹے‘‘ عمر امین خان اور فیصل امین خان کا نام لکھ کر وضاحت کی گئی ہے کہ ان تمام افراد کے نام پر ڈیرہ اسماعیل خان میں تمام رہائشی‘ کمرشل‘ زرعی یا کسی بھی قسم کی وارثتی‘ خریدی گئی یا بیچی گئی کے علاوہ تبدیل کی گئی تمام تر جائیداد کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔ لیٹر میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی ہے کہ خصوصی طور پر تحصیل کلاچی کے علاقے ہتھالہ‘ گومل زام کے کمانڈ ایریا اور سی پیک کے جنوبی روٹ پر توجہ دی جائے اور ان تمام علاقوں میں علی برادران کی جائیداد کی مکمل تفصیلات فراہم کی جائیں۔ نیب نے علی برادران کی جائیدادکی تفصیلات اور ریکارڈ کی مصدقہ فوٹو کاپیاں 23 جنوری 2023ئتک طلب کی ہیں۔