سوات (مانند نیوز) سوات ملاکنڈڈویژن ٹریڈرز فیڈریشن کے صدر عبدالرحیم نے کہا ہے کہ ٹیکس کے خلاف ملاکنڈڈویژن کے عوام تاجربرادری اور سیاسی جماعتیں ایک ہی پیج پرہے، ملاکنڈڈویژن میں ٹیکس لاگوکرنے کاخواب شرمندہ تعبیرہونے نہیں دیں گے، دہشت گردی اورقدرتی آفات سے تباہ ہونے والے ملاکنڈڈویژن کے عوام پرٹیکس لاگوکرناعوام کے زخموں پر نمک پاشی کے مترادف ہے، حالیہ سیلاب نے مزید تباہی مچادی ہے، متاثرین کی بحالی اور مدد کیلئے حکومتی اقدامات صفرہے، ان خیالات کااظہار انہوں نے سوات چیمبرآف کامرس کے زیراہتمام ملاکنڈڈویژن میں ٹیکس کے نفاذ کے حوالے سے منعقدہ کل جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر میئرشاہدعلی، جماعت اسلامی کے امیرحمیدالحق، سابق ایم پی اے محمدامین، مسلم لیگ (ن) کے ارشادعلی خان، فضل الرحمان نونو، اے این پی کے خواجہ محمدخان،یوسف علی،حاجی احمدخان، حاجی حیات علی، پختونخوا میپ کے ڈاکٹرخالدمحمود، اکرام خان، الحاج زاہدخان اور سوات چیمبرآف کامرس کے صدر راحت علی خان نے بھی خطاب کیا،مقررین نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن پہلے ہی سے دہشت گردی اور قدرتی آفات سے تباہ ہوچکاہے، اوراس تباہ حال اورمتاثرہ علاقہ میں لوگوں کو ریلیف دینے کے بجائے ان پرٹیکس لگانا سراسر زیادتی وناانصافی ہے، مقررین نے خطاب کیاکہ کسی کو ملاکنڈڈویژن میں ٹیکس لاگوکرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائیگی، انہوں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن کی پسماندگی دورکرنے اوریہاں لوگوں کو زندگی کے تمام سہولیات فراہم کرنے کے لئے حکومت تمام تراقدامات اٹھائیں اور یہاں روزگارکے مواقع پیداکرنے کیلئے صنعتکاروں کی بھرپور حوصلہ افزائی کی جائے، تاکہ سوات اور ملاکنڈڈویژن میں معیشت کا پہیہ چل سکے۔ انہو ں نے کہا کہ ملاکنڈڈویژن کے عوام ٹیکس کے خلاف ایک پیج پر ہے جو کسی بھی صورت ٹیکس لاگوکرنے کیلئے تیارنہیں ہے انہوں نے مطالبہ کیاکہ ملاکنڈڈویژن کوآئندہ دس سالوں کے لئے ٹیکس سے مستثنیٰ قراردیاجائے۔