شانگلہ(مانند نیوز)نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے کی ناقص کارکردگی،ضلعی ہیڈکوارٹر الپوری کے مین پُل کی خستہ حالی اور پُل کے دونوں اطراف بڑے بڑے شگاف پڑگئے ہیں۔این ایچ اے اور ضلعی انتظامیہ شانگلہ خاموش۔پُل پر پڑے شگاف کسی بھی وقت بڑے سانحے کو جنم دے سکتے ہیں۔پھر کون ذمہ دار ہوگا۔عوامی حلقوں میں بحث چھڑ گئی۔شانگلہکے صدر مقام الپوری میں وادی سوات کی دور سے قائم پل اب خستہ حالی کا شکار ہے، شاہراہ قراقرم سے منسلک مین سڑک پر الپوری کے مقام پر واقع یہ پل اس وقت چند ہزار آبادی کے لیے بنایا گیا تھا مگر اب یہ گلگت بلتستان سمیت کوہستان اور شانگلہ بھر کی لاکھوں گاڑیاں اس پل پر آمد و رفت کرتی ہیں،پُل کے دونوں اطراف بڑے بڑے شگاف پڑنے سے کسی بھی وقت بڑے حادثے کا شکار ہو سکتی ہے۔ پُل کی تعمیر گزشتہ پندرہ سالوں سے سیاسی وابستگیوں کی نذر ہورہا ہے اکثر اوقات الپوری بازار میں اس مین پُل کی تنگی کی وجہ سے بازار میں دونوں اطراف ٹریفک جام رہتی ہیں اور گاڑیوں کی لمبی لمبی قطاریں لگنے سے پیدل چلنے والے اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہیں۔پُل کی خستہ حالی کو بار بار لوگ سوشل میڈیا پر اس کے شگاف اور اس کے پرانے ہونے کے پوسٹس لگاتے ہیں مگر کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔پُل کی خستہ حالی اور شگاف بڑے حادثے اور باعث پریشانی ہو سکتے ہیں۔ اس پل پر ملٹنسی کے دوران باری باری مشینری اور ٹھینکس بھی گزارے گیئے،بعد میں اس کی معمولی مرمت بھی کی گئی اب حال یہ ہے کہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے ناقص کارکردگی اور سیاسی رسہ کشی کی وجہ سے یہ پل تعمیر نہ ہو سکا جو کسی بڑی سانحہ کا کا شکار ہو سکتی ہے نیشنل ہائی وے اتھارٹی نے شانگلہ میں مین سڑک الپوری تا خوازاخیلہ کی تعمیر کی مگر پل کی طرف نہ دیکھا اس وقت یہ شانگلہ سمیت سوات سے کوہستان اور پورے گلگت بلتستان جانے والی ٹریفک کا واحد راستہ ہیں جو انتہائی خستہ حالی اور جگہ جگہ شگاف پڑ نے سے ناقابل استعمال ہونے کی طرف جارہی ہیں۔ پُل کی تنگی اور خستہ حالی کے باعث دونوں اطراف ٹریفک کی لمبی لمبی قطاریں معمول بن گئی ہیں۔پُل پر سے گزرنے والے این ایچ اے اور انتظامیہ افسران کیلئے باعث فکر ہیں اور ان کی کارکردگی پر یہ ایک سوالیہ نشان بھی ہے کہ انھوں نے اس کیلئے کیا کیا.