اسلام آباد (مانند نیوز ڈیسک)جمعیت علماء اسلام ف کے سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری نے سیاسی جماعتوں کو متنبہ کیا ہے کہ،پی ٹی آئی کے بھگوڑے جہاں جائیں گے گند ساتھ لے کر جائیں گے،جو مشکل گھڑی میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکے ان پرکیا اعتبار کیا جائے، پی ٹی آئی کا مستقبل مسلم لیگ ق جیسا ہوگا،پرویزالہی کو پولیس سے چھپنے کی بجائے کھلے عام گرفتاری پیش کرنی چاہیے تھی قومی اور فوجی تنصیبات پر چڑھائی سیاست نہیں سراسر دہشتگردی ہے، ایک خصوصی انٹرویومیں انہوں نے کہاکہ حکومت اپنی آئینی مدت پورا ہوتے ہی انتخابات کے اعلان کے لیے تیار ہے، ابھی تک حکومت کی یہی سوچ ہے کہ آئینی مدت مکمل ہوتے ہی نگران حکومتیں بنیں گی۔ انھوں نے کہا کہ بیک وقت پورے ملک میں انتخابات ہوں گے۔پی ٹی آئی کا مستقبل اچھا نظر نہیں آرہا، انھوں نے دعوی کیا کہ پی ٹی آئی کا مستقبل مسلم لیگ ق جیسا ہوگا،چوہدری شجاعت نے تومسلم لیگ ق کا وجود برقرار رکھا، جب کہ چیئرمین پی ٹی آئی سیاستدان نہیں،پی ٹی آئی کے بھگوڑے جہاں جائیں گے گند ساتھ لے کر جائیں گے، جب پی ٹی آئی کے بھگوڑے اپنی جماعت سے وفا نہیں کرسکے تو کسی اور کے ساتھ کیا کریں گے؟ مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ جو مشکل گھڑی میں اپنی قیادت کے ساتھ کھڑے نہیں ہوسکے ان پرکیا اعتبار کیا جائے،پی ٹی آئی چھوڑنے والوں کو شامل کرنے سے پہلے اچھے برے کو دیکھنا پڑے گا۔انھوں نے کہا کہ چوہدری پرویز الہی مولانا فضل الرحمان کی بات مان لیتے تو آج انہیں یہ دن دیکھنا نہ پڑتے، نوازشریف اور شہبازشریف کو مولانا فضل الرحمان نے پرویز الہی کو وزیراعلی نامزد کرنے پر راضی کرلیا تھا، پرویز الہی پی ڈی ایم سے طے شدہ فارمولہ پر عمل کرتے تو آج تک وزیراعلی پنجاب ہوتے، جب کہ پی ٹی آئی میں شمولیت چوہدری پرویزالہی کی دوسری بڑی غلطی تھی،چوہدری پرویز الہی جس انداز میں گرفتار کیے گئے اس پر دکھ ہوا،پرویزالہی کو پولیس سے چھپنے کی بجائے کھلے عام گرفتاری پیش کرنی چاہیے تھی۔ سیکرٹری جنرل جے یو آئی نے کہا کہ پی ٹی آئی نہ کوئی سیاسی جماعت ہے نہ ہی چیئرمین پی ٹی آئی کوئی سیاستدان،ہم نے ہر آمر کو چیلنج کیا جیلیں کاٹی اور کوڑے کھائے،چیئرمین پی ٹی آئی اسٹیبلشمنٹ کو ہم سے زیادہ نہیں جانتے،ہم ضیا دور سے اسٹیبلشمنٹ سے لڑائیاں لڑتے آرہے ہیں،مشرف دور میں مجھ پر بغاوت کے 7 مقدمات بنائے گئے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری ہوئی تو جی ایچ کیو پر چڑھ دوڑے جلاؤگھیراؤ کیا گیا،قومی اور فوجی تنصیبات پر چڑھائی سیاست نہیں سراسر دہشتگردی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی فوجی تنصیبات پر چڑھائی کے ذمہ دار ہیں۔ انھوں نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے کارکنوں کو ہدایت کی کہ ان کی گرفتاری پر کیا کرنا ہے،پی ٹی آئی کی قیادت نے حملوں کے حوالے سے پارٹی چیئرمین کی ہدایت پر عمل کیا۔مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ عمران خان کی باتیں اگر فوجی عدالت کے زمرے میں آتی ہیں تو فوجی عدالت میں اس کا ٹرائل ہونا چاہئے، اگر چیئرمین پی ٹی آئی کا جرم ثابت ہوتا ہے تو اسے اس کی سزا ملنی چاہیے، دھرنوں میں بھی چیئرمین پی ٹی آئی نے گھیرائو جلائو اور سول نافرمانی کی بات کی تھی۔