اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک)عالمی مالیاتی ادارے(آئی ایم ایف) کے مشن چیف نیتھن پورٹر نے کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھیں گے۔آئی ایم ایف مشن چیف نے پاکستان کی جانب سے حال ہی میں کی جانے والی کوششوں کا بھرپور اعتراف کیا ہے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق نیتھن پورٹر نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ جلد معاہدے کیلئے کوششیں کررہے ہیں، پاکستان نے پالیسیوں کو مزید ہم آہنگ بنانے کیلئے فیصلہ کن اقدامات کیے، پاکستانی معاشی فیصلہ سازی سے قرض پروگرام کے معاملات میں بہتری ہوئی، پارلیمنٹ سیمنظوربجٹ میں ٹیکس آمدن بڑھنا احسن قدم ہے، ٹیکس آمدن بڑھنے سے پاکستان سماجی شعبے کیلئے فنڈنگ دستیاب ہو سکے گی۔انہوں نے کہا کہ ٹیکس آمدن بڑھنے سے پاکستان میں ترقیاتی کاموں کیلئے فنڈز مہیا ہو سکیں گے، مانیٹری پالیسی میں سختی سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے میں مدد ملے گی، فارن ایکسچینج مارکیٹ میں بہتری سیبیلنس آف پیمنٹ کادباوکم ہو گا، آئی ایم ایف پاکستان کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے گا۔اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا کو منگل کو علی الصبح ٹیلی فون کیا۔ وزیراعظم اور آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر نے آئی ایم ایف پروگرام کے حوالے سے امور پر گفتگو کی۔خیال رہے کہ 6.7 ارب ڈالر قرض پروگرام کی مدت 30 جون کو ختم ہو رہی ہے، اس سے قبل پاکستان کو 2 قسطوں کی مد میں تقریبا 2.2 ارب ڈالر حاصل کرنا ہیں، اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو عالمی مالیاتی ادارے سے ساتویں اور آٹھویں مشترکہ جائزے کے بعد ایک ارب 16کروڑ ڈالر کی قسط یکم ستمبر 2022 کو موصول ہوئی تھی۔آئی ایم ایف نے مالی سال 24-2023 کے بجٹ میں کیے گئے اقدامات پر سوالات اٹھائے تھے جبکہ ریٹنگ ایجنسیوں نے خبردار کیا تھا کہ پاکستان کے پاس آئی ایم ایف بیل آوٹ پیکیج پر قائل کرنے کے لیے وقت ختم ہورہا ہے۔آئی ایم ایف کے مطالبات کے مطابق بجٹ پر نظر ثانی کرنے کے بعد حکومت کو اشد ضروری بیل آوٹ فنڈز حاصل کرنے کے لیے آئندہ چند روز میں عالمی قرض دہندہ ادارے کی جانب سے منظوری کے اعلان کی توقع ہے۔9 جون کو بجٹ کے اعلان کے بعد پاکستان میں آئی ایم ایف کی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے عوامی طور پر بجٹ کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ بجٹ نے ٹیکس کی بنیاد کو زیادہ ترقی پسند انداز میں وسیع کرنے کا موقع گنوا دیا اور نئے ٹیکس اخراجات کی طویل فہرست نے ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو مزید کم کر دیا۔ایستھر پیریز روئیز نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا تھا کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم فنڈ پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے اور اس سے ایک غلط مثال قائم ہوئی، انہوں نے حکومت سے بجٹ کو منظور کرنے سے پہلے اسے بہتر کرنے کا کہا تھا۔پاکستان میں حکام نے کہا کہ اب ان مطالبات کو پورا کرلیا گیا ہے، گزشتہ روز ایک عہدیدار نے کہا کہ آئی ایم ایف کے عملے اور وزارت خزانہ کے درمیان تقریبا تمام اضطرابی مسائل کو وزیر خزانہ کی اختتامی بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل دور کر دیا گیا تھا، نویں جائزے کی کامیاب تکمیل کے بارے میں اعلان آئی ایم ایف کا استحقاق ہے اور اب محض رسمی کارروائی ہے۔عہدیدار نے کہا کہ اب یہ آئی ایم ایف مشن پر منحصر ہے کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے حتمی تاریخوں کا تعین کرے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ 30 جون تک کے کیلنڈر پر نہیں ہے جب 2019 کے ساڑھے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔حکومت کی جانب سے بجٹ میں نظر ثانی کے تحت کیے گئے اقدامات میں 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات، اخراجات میں 85 ارب روپے کی کٹوتی، غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد پر ایمنسٹی واپس لینا، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں 16 ارب روپے کا اضافہ اور پیٹرولیم لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کرنے کے اختیارات شامل ہیں

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے