اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) خلیج بنگال سے اٹھنے والا مون سون کا سسٹم ملک میں مسلسل داخل ہو رہا ہے، جو پاکستان کے بالائی علاقوں کو متاثر کر رہا ہے اور یہ سلسلہ آئندہ چند دنوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔پنجاب اور خیبرپختونخوا کے علاوہ ملک کے جنوبی اور جنوب مغربی علاقوں میں 22 سے 26 جولائی کے درمیان مزید مون سون بارشوں کی پیش گوئی ہے۔محکمہ موسمیات نے ایک بیان میں کہا کہ 22 سے 26 جولائی تک اسلام آباد، راولپنڈی، پشاور، گجرانوالہ اور لاہور میں موسلا دھار بارشیں ہوں گی جس سے وہاں کے نشیبی علاقوں میں اربن فلڈنگ کا خطرہ ہے۔بیان میں کہا گیا کہ بارشیں مری، گلیات، کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا سبب بن سکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق اس دوران کشمیر، دیر، سوات، کوہستان، شانگلہ، بونیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، راولپنڈی اور اسلام آباد میں شدید بارشوں سے سیلابی صورت حال ہوسکتی ہے جب کہ 22 اور 23 جولائی کو ڈیرہ غازی خان اور شمال مشرقی بلوچستان کے ملحقہ پہاڑی علاقوں میں طوفانی بارش ہوسکتی ہے۔اس سے قبل جمعے کو کراچی میں بھی موسلادھار بارش ہوئی تھی، جس سے کئی علاقوں میں پانی جمع ہوگیا۔ محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ شہر قائد میں آئندہ دو روز میں مزید بارشیں ہوسکتی ہیں۔محکمہ موسمیات کے مطابق: 22 سے 24 جولائی کے دوران شدید بارشوں سے کراچی اور حیدرآباد کے نشیبی علاقوں میں پانی جمع ہو سکتا ہے۔پاکستان اور اس کے پڑوسی ملک انڈیا کو حالیہ مون سون سیزن میں شدید بارشوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور صرف پاکستانی صوبے پنجاب میں گذشتہ ہفتے 14 ہزار افراد کو عارضی نقل مکانی کرنا پڑی۔محکمہ موسمیات نے کسانوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ موسم کی پیش گوئی کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی سرگرمیوں کا انتظام کریں۔پہاڑی علاقوں میں موجود سیاحوں کو برسات کے دوران زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔محکمہ موسمیات نے اپنے بیان میں کہا کہ آندھی اور موسلادھار بارشیں کمزور ڈھانچے کو نقصان پہنچا سکتی ہے جیسے کہ بجلی کے کھمبے اور سولر پینلز وغیرہ۔ عام لوگوں کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ آندھی، طوفان اور شدید بارش کے دوران محفوظ مقامات پر رہیں۔