تخت بھائی(مانند نیوز) گھریلو تشدد، کیا محض قانون بنانے سے خواتین پر تشدد کی روک تھام ممکن ہے -کے حوالے سے عزیز بسمل اور دیگر نے کہا کہ پاکستان کی پندرویں قومی اسمبلی اپنی پانچ سالہ طبعی عمر کو پہنچ کر 10 اگست کو تحلیل ہوگئی اور اپنے پیچھے کئی ناخوشگوار یادیں اور واقعات چھوڑ گئی جن میں سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کی کامیابی اور پی ڈی ایم حکومت کی برسر اقتدار آنا سب سے اھم ہے، اس دوران سابق وزیر اعظم عمران خان کے خلاف درجنوں کیسز، عدالتی پیشیوں کے ساتھ ساتھ انکی نا اہلی اور جیل جانا بھی شامل ہے اس دوران 9 مئی کے واقعات بھی ہوئیمگر گزشتہ اسمبلی کی سب سے حیران کن بات اپنی عمر کیاخری ہفتے میں درجنوں کے حساب سے نہایت عجلت میں قوانین کیب منظور ی ہیں جس پر سب لوگ حیران ہیں بلکہ پریشان ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ کیا ہو رہا ہے اس سے قبل پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں قبل از وقت تحلیل کے گئی تھیں لیکن تحلیل سے قبل، خیبر پختونخوا اسمبلی نے گھریلو تشدد کی روک تھام کا بل 2021 منظور کیا تھا، اس بل میں کیا تھا اور اس کے چیدہ چیدہ نکات کیا تھی اور دوسرے قوانین کی طرح اس قانون کی اس طرح تشہیر کیوں نہیں کی گئی تاکہ صوبے کے عوام کو آگاہی مل سکیں، اس اگاہی کے سلسلے میں ملکی سطح کی تنظیم شرکت گاہ اور یو این ٹرسٹ فنڈ وائلینس اگینسٹ وومن اینڈ گرلز نے مشترکہ طور پر منتخب وکلا، سماجی تنظیموں کے نمائندوں اور صحافی خواتین و حضرات کے لئے ایک تین روزہ تربیتی اور آگاہی ورکشاپ کا اہتمام کیا تھا، تاکہ وہ تربیت اور اگاہی حاصل کر کے اپنے اپنے دائرہ اثر میں دیگر ساتھیوں اور اپنی اپنی کمیوئی کو آگاہ کریں، اس موقع پر سپریم کورٹ اف پاکستان کے معروف وکیل سہیل وڑائچ کے ساتھ راحیلہ علی ٹکر، ثنا علی اور حمیر شرکا کو خیبر پختونخوا اسبملی سے منظور شدہ، گھریلو تشدد کے روک تھام کے قانون کے پس منظر، منظوری اور چیدہ چیدہ نکات کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد کو جرم قرار دینے کے لیے قانون 2021 میں منظور ہوا تاکہ سماج میں موجود گھریلو تشدد میں کمی لائی جا سکیں اس طرح یہ صوبہ بھی ان صوبوں کے فہرست میں شامل ہو گیا جہان گھریلو تشدد کے روک تھام کا قانون نافذ ہوا-خیبر پختونخوا واحد صوبہ تھا جہاں گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے خصوصی قانون نہیں تھا انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین کے خلاف گھریلو تشدد سے متعلق طویل عرصے سے التوا کا شکار تھا۔ مجوزہ قانون جو 2021 کو منظور کرلیا گیااس قانون کے تحت اہلخانہ کے افراد کی جانب سے خواتین سے بدسلوکی کے جرم میں جرمانے کے ساتھ ساتھ ایک سے پانچ سال قید کی سزا سنائی جاسکتی ہے۔ان کے مطابق صوبائی وزیر برائے سماجی و بہبود ہشام انعام اللہ خان نے خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد کے خلاف خواتین (روک تھام اور تحفظ) بل 2021 کو ایوان میں منظوری کے لئے پیش کیا۔اس بل کے تحت خواتین کے خلاف گھریلو تشدد میں معاشی، نفسیاتی اور جسمانی زیادتیاں شامل ہیں۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا واحد صوبہ تھا جہاں گھریلو تشدد سے نمٹنے کے لیے خصوصی قانون نہیں تھا تاریخی پس منظر کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا اگر اس قانون کی تاریخی پس منظر کی طرف جائیں تو معلوم ہوگا کہ اس کے خلاف قانون سازی کا معاملہ مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قانون سازوں کی مخالفت کی وجہ سے 8 سالوں سے رکا رہا تھا۔ اسمبلی سیکریٹریٹ کے مطابق گھریلو تشدد سے متعلق بل 2012 سے اسمبلی میں زیربحث رہا ہے۔ ریکارڈ کے مطابق اس کا پہلا مسودہ 2012 میں پیش کیا گیا تھا جب عوامی نیشنل پارٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے صوبے میں مخلوط حکومت کی تھی اس دستاویز کو پاکستان تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کی اخری مخلوط حکومت کے دوران دوبارہ ڈیزائن کیا گیا تھا اور چند ترامیم کے ساتھ اسے دوبارہ 2016 میں ایوان میں پیش کیا گیا تھا۔جماعت اسلامی نے اس بل کے بارے میں شدید تحفظات کا اظہار کیا تھا جس کے مسودے کو اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس بھیجا گیا تھا جس نے اسے غیر اسلامی قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کردیا تھا۔2018 کے عام انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد پی ٹی آئی کی حکومت نے 11 فروری 2019 کو اسمبلی میں یہ بل پیش کیا اور متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے قانون سازوں کی جانب سے اٹھائے جانے والے اعتراضات پر اسے ایوان کی سلیکٹ کمیٹی کے پاس بھیج دیا گیا۔کمیٹی نے ایم ایم اے کے اراکین اسمبلی کی طرف سے تجویز کردہ چند ترامیم کو شامل کرنے کے بعد اس مسودے کو منظوری دے دی۔بل کے سیکشن 3 (1) میں کہا گیا ہے کہ کوئی بھی شخص گھریلو تشدد کے واقعے کے ارتکاب، امداد اور سہولیات فراہم نہیں کرے گا۔اس نئے قانون میں کہا گیا ہے ‘کوئی بھی فرد جو ذیلی دفعہ (1) کے مطابق کسی کام کا ارتکاب کرتا ہے اسے اس ایکٹ کے تحت کسی جرم کا مرتکب سمجھا جائے گا اور وہ پاکستان پینل کوڈ 1860 میں مذکورہ جرم کے لیے جرمانے کے علاوہ ایک سال سے زیادہ اور زیادہ سے زیادہ 5 سال تک کی مدت تک کی قید کی سزا کا پابند ہوگا’۔قانون کے نفاذ کے بعد حکومت ہر ضلع میں ضلعی تحفظ کمیٹی بنائے گی جس میں ضلع خطیب، ایک ماہر نفسیات اور ماہر امراض چشم سمیت 10 ممبران شامل ہوں گے۔پی پی پی کی خاتون ایم پی اے نگہت یاسمین اورکزئی نے ایک ترمیم پیش کی جس میں بتایا گیا ہے کہ خاتون ایم پی اے ضلعی تحفظ کمیٹی کی سربراہی کریں۔ایوان نے متفقہ طور پر اسے منظور کرلیا۔خیال رہے کہ اصل بل میں تجویز پیش کی گئی تھی کہ ڈپٹی کمشنر کمیٹی کی سربراہی کریں تاہم نئے بل میں کہا گیا ہے کہ ‘خواتین ایم پی اے کی غیر موجودگی میں ڈی سی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت کریں گے،خیبر پختونخوا گھریلو تشدد کی روک تھام اور تحفظ قانون قانون کے چیدہ چیدہ نکات کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس قانون کا مقصد عورتوں کو جنسی استحصال، نفسیاتی استحصال، معاشی استحصال اور پیچھا کئے جانے اور ان جیسے دیگر معاملات سے تحفظ دینے کے لئے اس قانون کے تحت شکایت کرنا –

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے