وانا (مانند نیوز) پاک افغان بارڈر انگوراڈا پر جنوبی وزیرستان چیمبر آف کامرس آینڈ آنڈسڑی بشمول تاجر برادری ، ٹریڈ یونین ، فریش فروٹ ، وزیرستان ٹرانسپورٹ یونین اور دیگر مختلف یونینز کی احتجاجی دھرنا نویں روز بھی جاری ہیں۔ پاک افغان بارڈر پر دو سال سے تجاراتی سرگرمیاں معطل ہونے کے باوجود حکومت خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہا ہیں روزانہ کی بنیاد پر اربوں روپے کا نقصان ملکی خزانے کو اٹھانا پڑ رہا ہیں گزشتہ ہفتے تاجر برادری ، ٹریڈ یونین ، فریش فروٹ اور جنوبی وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ پر بڑی گاڑیوں کی امدو رفت بند کیا گیا ہے مگر حکومت ٹس سے مس نہیں ہوتا، ایک افغانی بندے جس نے غیرقانونی طور پر پاکستانی شناختی کارڈ بنایا ہیں اور وہ پاکستان میں کھلے عام گھومتا پھیرتا ہیں حکومت ان کو پکڑنے سے کتراتے ہیں لوئر وزیرستان کے تاجر برادری ، فریش فروٹ ، ٹریڈ یونین اور جنوبی وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری والوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دس ہزار افراد پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ کی بندش کی وجہ سے بے روزگار ھوئیں ہیں ان کے گھروں کے چھولے ٹھنڈا پڑ گئیں ہیں ، مگر حکومت لعت ولعل سے کام لیں رہا، انہوں نے مذید کہا کہ اگر حکومت نے پاک افغان بارڈر انگوراڈا گیٹ کے مسائل فوری طور پر حل کرنے کے لیے اقدامات نہیں اٹھائے تو احتجاجی مظاہرے پورے پاکستان میں کریں گے، جنوبی وزیرستان چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر سیف رحمن وزیر نے مذید کہا کہ ملک کے دیگر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدور ہمارے ساتھ رابطے میں ہیں اگر مسائل فوری طور پر حل نہیں کیے تو ملکی سطح پر احتجاج کی کال دیں گے۔