جمرود(مانند نیوز) ضلع خیبر جمرود علاقہ شاکس سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ استاد سعید خان،اشرف الدین اور رسول گل نے جمرودپریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی اداروں نے میرے بیٹے محمدعثمان کو دکان سے اٹھا کر نامعلوم مقام پر لے گئے اور اس کے بعد سیکورٹی فورسز نے میرے گھر پر چھاپہ مارکر چادر اور چار دیواری کی پامالی کرتے ہوئے کمروں اور الماریوں کے تالے توڑے اور کافی توڑ پھوڑ کے بعد بھی ہمارے گھر سے کوئی غیرقانی چیز برآمد نہ کرسکے انہوں نے کہا کہ چندسال پہلے بھی میرے بیٹے کو سیکیورٹی فورسز نے پشاور سے اٹھایا تھا پورے چار مہینے حراست میں رکھ کر چھوڑ دیا گیا،انہوں نے کہا کہ ہمارا کسی شدت پسند تنظیم سے نہ کوئی تعلق ہے اور نہ کوئی جان پہچان، میرا بیٹا گزشتہ دس سال سے چپل کا کاروبار کرتا ہے اور شاکس مدرسہ چوک پر ہمارا دکان ہے،انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ماہ پہلے بھی سیکیورٹی اداروں نے ان کے دکان پر چھاپہ مارا تھا لیکن اس دن بیماری کی باعث دکان نہیں گیا تھا جس کی وجہ سے وہ بچ گیا جس کے بعد ہم نے تمام سیکورٹی اداروں کو سابقہ ایم این اے کے کہنے پر خبردار کیا تھا کہ بے جا چھاپوں سے گریز کریں اور اگر میرا بیٹا کسی کو مطلوب ہے تو ہم رضاکارانہ طور پر حوالے کرینگے ہم محب وطن پاکستانی شہری ہے سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہر قسم تعاون کے لئے تیار ہے،خدارا مہنگائی کے اس دور میں ہمیں جینے دیا جائے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکاہے،انہوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کیا کہ میرے بیٹے کو جلد از جلد رہا کیا جائے اور جس کے کہنے پر غیر قانونی چھاپہ مارا اس کے خلاف تحقیقات کرکے قرار واقعی سزا دی جائے۔