پشاور(مانند نیوز )سرحدی یتیم خانہ بے سہارا اور یتیم بچوں کا سب سے موثر اور بہترین تربیتی ادارہ ہے جہاں کئی اہم شخصیات نے اپنی زندگی کے ایام گزارے۔ سرحدی یتیم خانہ مردان سے فارغ التحصیل طلباء آج مختلف اداروں میں ملک و قوم کی خدمت کررہے ہیں۔سرحدی یتیم خانہ مردان علامہ محمد اقبال کے تجویز اور قائد اعظم محمد علی جناح کے مشورے سے 1938 میں قاضی عبدلاکبر خان غازی نے قائم کیا۔ جو کئی سالوں سے بے سہارا اور یتیم بچوں کی تعلیم، تربیت، ذہنی نشوونما، بنیادی ضروریات اوران کی بہتر مستقبل بنانے میں اپنا اہم کردار ادا کررہا ہے۔ اور آج بھی جدید تقاضوں کے مطابق یتیم اور بے آسرا بچوں کے لئے ایک آسرا بنا ہوا ہے۔سرحدی یتیم خانہ مردان کی نگرانی قاضی عبدلاکبر خان کا پوتا اور ادارے کے جنرل سیکرٹری قاضی خضر حیات کررہے ہیں۔ جنہوں نے اپنے دادا قاضی عبدالاکبرخان غازی اور والد قاضی محمد ثقلین کے انسانیت اور بے آسرا بچوں کی بے لوث خدمت کے اس مشن کو جاری رکھتے ہوئے اسی کو اپنے زندگی کا مقصد بنا دیا ہے۔ قاضی خضر حیات نے سرحدی یتیم خانہ مردان کو نئی سوچ، جذبے اور نئی امنگوں کے ساتھ ایک منزل کی جانب گامزن کیا ہے۔ سرحدی یتیم خانہ مردان کے جنرل سیکرٹری قاضی خضر حیات نے 25 اگست 1983 کو مردان کے قاضی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ انسانیت سے محبت اور بے سہارا اور مستحقین کی امداد کا جذبہ ان کو اپنے باپ، دادا سے وراثت میں ملا۔ انہوں نے اپنی ابتدائی تعلیم پاکستان ایئر فورس سکول اینڈ ڈگری کالج (نیا نام فضائیہ ڈگری کالج) سے حاصل کی۔ قاضی خضر حیات نے ابتدائی تعلیم کے بعد صوبے خیبرپختونخوا کے نمبر 1 بزنس سکول آ ئی ایم سائنسز سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں بیچلر ڈگری حاصل کی اور پھر آئی ایم سائنسز سے ہی بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹر کیا۔ قاضی خضر حیات نے تعلیم کے بعد مختلف قومی اور بین الاقوامی ادارے UBL اور انٹرنیشنل ریسکیو کیمونٹی میں انٹرنشپس سے اپنے پروفیشنل کرئیر کا آغاز کیا۔ 2005 سے 2007 تک مختلف اداروں میں انٹرنشپس کئے۔ اسی طرح انہوں نے وفاقی حکومت کے نیشنل انٹرنشپس پروگرام کے تحت سول سیکرٹریٹ کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں بھی کام کیا۔ اپنی ذہنی اور تعلیمی قابلیت کے بدولت آگے بڑھتی ہوئے انہوں نے 8 سال مختلف بین الاقوامی اداروں کے ساتھ کیا۔ اور بہترین کارکردگی کے بدولت مختلف ایوارڈز اپنے نام کئے۔ 2009 میں قاضی خضر حیات نے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کا امتحان دے کر نمایاں پوزیشن حاصل کی اور سوات میں بطور آڈٹ افسر تقرر کئے گئے۔اپنے والد قاضی محمد ثقلین کے انتقال کے بعد قاضی خضر حیات نے محسوس کیا کہ ان کے ساتھ ساتھ سرحدی یتیم خانہ بھی سرپرست اعلیٰ سے محروم ہوگیا ہے۔ ایک ایسا ادارہ جو یتیموں کے لئے ایک آسرا ہے آج وہ خود یتیم ہوگیا انہوں نے محسوس کیا کہ زندگی کا اصل مقصد بھی خدا کے مخلوق کی خدمت اور بے سہارا یتیم بچوں کو اپنے بچے سمجھ کر ان کی کفالت اور بہتر مستقبل بنانا ہے۔ تاکہ کل یہی بچے ملک و قوم کی خدمت کرکے ملک کا نام روشن کریں۔ انہوں نے اپنے تمام نوکریاں اور اپنا روشن مستقبل کو خیر باد کہہ کر بے آسرا بچوں کی کفالت کو اپنا مقصد بنا دیا اور اسی مقصد کے لئے انہوں نے اپنے باپ دادا کے فرائض کو اپنا فرض سمجھتے ہوئے نئے عزم، سوچ اور فکر کے ساتھ سرحدی یتیم خانہ مردان کی تمام تر ذمہ داریاں اپنی زمے لے لیا۔ گزشتہ 10 سالوں سے قاضی خضر حیات سرحدی یتیم خانہ مردان میں جدت لے کر آئے۔ بچوں کے لئے جدید سہولیات جیسے کمپیوٹر لیب، سٹڈی رومز، سٹینڈ بائی جنریٹر کی سہولت، لڑکوں کے لئے پرائیویٹ سکولز میں داخلے پروگرام، یتیم خانہ میں بچوں کے لئے کھیلوں کی سرگرمیوں کو فروغ، سرحدی یتیم خانہ کے تمام سسٹم کو ڈیجیٹلائیز کیا اور دیگر جدید تقاضوں کے مطابق سہولیات میں اضافہ کیا۔ یتیم خانہ کے ساتھ ساتھ قاضی خضر حیات نے فلاحی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔ معاشرے میں کئی ایسے سفید پوش خاندان جو امداد کے مستحق تھے اور بد حالی اور تنگ دستی میں وہ کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے تھے ان لوگوں کی مدد کی۔ اور اسی طرح دیگر فلاحی کاموں کو اپنا نصب العین سمجھ کر بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔اپنے خاندان کی اس 85 سالہ فرض کو آگے لیجاتے ہوئے ایک نئی سوچ کے ساتھ اس خدمت کو نئی شکل دینے کے لئے مستقبل میں قاضی خضر فاؤنڈیشن کا قیام عمل میں لایا جائے گا جس میں نہ صرف بچے بلکہ بے سہارا بچیوں کی کفالت اور بہترین تعلیم و تربیت کی جائے گی۔ قاضی خضر فاؤنڈیشن اپنی نوعیت کا سب سے منفرد تمام سہولیات سے آراستہ ایک بہترین منصوبہ ہوگا جہاں ہر بچہ ایک کامیاب انسان بنے گا۔ جہاں بچوں میں نئی سوچ اور زندگی میں آگے بڑھنے کا جذبہ پروان چڑھے گا۔ جہاں بے سہارا بچے اور بچیاں فاؤنڈیشن کے اپنے سکول میں پڑھیں گے۔ لڑکے اور لڑکیاں پی ایچ ڈی کریں گے۔ جن کو فاؤنڈیشن سپورٹ کریں گا۔ زیادہ تر بچے گھر کے اخراجات کے لئے سکول چھوڑ دیتے ہیں اور وہ اعلیٰ تعلیم سے محروم ہو جاتے ہیں۔ قاضی خضر فاؤنڈیشن صوبے کا واحد ایسا فاؤنڈیشن ہوگا جس کے ذریعے تمام ایسے بچوں کے تعلیم کے ساتھ ان کے گھر کا ماہانہ راشن اور دیگر تمام اخراجات پورے کئے جائیں گے یہاں تک کہ ان گھر میں موجود بن بیائے بہنوں کے شادی بیاہ اور دیگر بنیادی ضروریات کے لئے بھی اقدامات کئے جائیں گے۔ تاکہ وہ بچہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم نہ ہو اور اپنے تعلیم کو ترجیح دے کر مستقبل میں انسانیت اور ملک و قوم کے لئے اپنے خدمات فراہم کریں۔ اسی طرح شہدا کے بیوہ اور دیگر ایسے افراد جو اپنے بچوں کو بہتر مستقبل دینے کے خواہشمند ہو مگر مالی وسائل کی وجہ سے ان کی خواہش ادھوری ہو قاضی خضر فاؤنڈیشن ان کے بچوں کے بہتر کل اور روشن مستقبل کا ضامن بنے گا۔قاضی خضر فاؤنڈیشن کے ذریعے معاشرے کے سفید پوش افراد کی امداد، غریب مریضوں کے علاج معالجہ ادویات میں ریلیف، بے روزگار نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع فراہم کرنا اور مشکل گھڑی اور قدرتی آفات میں حکومت کے ساتھ معاونت کی جائے گی۔ قاضی خضر فاونڈیشن مستقبل میں ان تمام بچوں کے لئے روشن مستقبل کا ضامن ہوگا جن کا کوئی سہارا نہیں اور ان تمام لوگوں کا مداوا ہوگا جو معاشی مشکلات سے دو چار ہو۔