شیرگڑھ (مانند نیوز) پختون خوا ملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری موسی باچہ نے کہا کہ حالیہ مردم شماری میں سوچی سمجھی منصوبہ کے تحت پختونوں کی آبادی کے غلط اعداد وشمار ظاہر کی گئی پختون قوم کو ایک سازش کے تحت پنجاب کا غلام بنائے جانے کے منصوبہ پر کام جاری ہے یہ حالیہ مردم شماری ایک اہم حصہ ہے مردم شماری میں 2013 سے پختونوں کی آبادی میں اضافہ ظاہر نہیں کیا گیا ہے بجلی چوری کے خاتمے کے نام پر پختون قوم کا استحصال جاری ہے بجلی ہماری ہے جب کہ بجلی کا اختیار پنجاب کے پاس ہے سندھ سمیت ملک بھر میں پختون کا پکڑ دھکڑ اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنا صرف پختونوں کے خلاف نہیں ملک کی سلامتی وحدت کے خلاف بھی سازش ہے افغان مہاجرین کو صوبہ خیبر پختون خوا اور ملک کے دیگر حصوں میں تنگ کرنا بند کیا جائے پاکستان کے تمام پختون آبادی پر مشتمل نیا پختون صوبہ بنا کر جس کا نام پختون خوا،پختونستان یا پھر افغانیہ رکھا جائے انہوں نے ان خیالات کا اظہار پارٹی ضلع چارسدہ کے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ پختون خوا ملی عوامی پارٹی حالیہ مردم شماری کو مسترد کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ انٹر نیشنل بغیر جانبدار کمیشن کی نگرانی میں نیا مردم شماری کرکے پختونوں کی حقیقی آبادی مرد شماری میں ظاہر کیا جائے کیونکہ اس مردم شماری میں ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پختون قوم کی آبادی کم ظاہر کر دی گئی ہے اور 2013 سے پختونوں کی آبادی میں اضافہ ظاہر نہیں کی گئی ہے انہوں نے کہا کہ پختون خوا ملی عوامی عوامی پارٹی کا موقف یہ ہے کہ پختونوں کی آبادی گھٹا کر ظاہر کرنا بنیادی طور پر پختون قوم کو ایک خاص قوم کا غلام بنانا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایک انٹرنیشنل غیر جانبدار کمیشن کی نگرانی میں صاف وشفاف از سر نو مردم شماری کرکے پختونوں کی اصل آبادی ظاہر کیا جائے تاکہ وسائل میں پختون قوم کو اپنا حق مل سکے انہوں نے بجلی چوری کے نام پر جاری پیسکو کا آپریشن پختون قوم کے خلاف ایک اور سازش قرار دے دیا اور کہا کہ ہماری دوسرے وسائل کی طرح ہماری بجلی کا اختیار ملک کی ایک بڑی قوم کے ہاتھوں میں ہے ہم اپنی بجلی پر دوسروں کا اختیار نہیں مانتے ہیں یہ آپریشن پختون قوم کو نیچے دکھانے کی کوشش ہے اس آپریشن کو فوری طور پر بند کیا جائے سندھ پنجاب سمیت ملک کے دیگر حصوں میں پختونوں کے ساتھ جو امتیازی سلوک روا رکھا گیا ہے اس کو فوری طور پر بند کیا جائے ملک کے تمام پختون آبادی والے حصوں پر مشتمل ایک نیا صوبہ بنایا جائے اور اس کا نام پختون خوا،پختونستان یا پھر افغانیہ رکھا جائے ملک میں افغان مہاجرین کے ساتھ ناروا سلوک بھی ہمارے لیئے ناقابل برداشت ہے۔