شبقدر (مانند نیوز)شبقدر بازار میں بجلی چوری اور نادہندگان کے خلاف اپریشن کے نام پر تاجروں کا معاشی قتل کیا جا رہا ہیں۔ بجلی چوری میں تاجر نہیں بلکہ واپڈا اہلکار ملوث ہیں جو تاجروں کو بہلا پھسلاکر بجلی چوری کی طرف راغب کرتے ہیں۔ بازار میں گذشتہ دو ماہ سے بجلی بندش سے کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی۔ بجلی سے وابستہ دوکاندار اور کاروباری طبقہ فاقوں پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ بجلی نہ ہونے کے باوجود بھاری بلوں نے تاجروں کو کاروبار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انجمن تاجران تحصیل شبقدر کے صدر بابو جان کرکنی و دیگر عہدیداروں اسد اللہ زرگر، بختور شاہ، انور خان، سکندر اور حاجی فرمان سمیت دیگر نے اپنے ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کی۔ انہوں نے کہا کہ بازار میں دن بھر بجلی بندش سے تاجربرادری کاروبار زندگی ٹھپ ہوکر رہ گئی ہے۔ بجلی چوری اور نادہندگان کے خلاف اپریشن کے نام پرتاجروں کو لوٹا جا رہاہیں واپڈا کے وہ اہلکار اپریشن کا حصہ ہیں جو بازار میں بجلی چوری میں پہلے سے ملوث پائے گئے ہیں۔ بجلی چوری میں کوئی تاجر ملوث نہیں بلکہ شبقدر واپڈا کے اہلکار بجلی چوری میں ملوث ہیں بازار میں جن دوکانوں پر بجلی چوری کے الزامات لگائے جاتے ہیں ان میں واپڈا کے اہلکار ملوث ہیں ان کا کہنا تھا کہ شبقدر واپڈا میں موجود کرپٹ اہلکار ہی صارفین کو بجلی چوری کے طریقے اور بجلی میٹرز میں ہزاروں روپے لیکر ہیرا پھیری کرادیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکام کو ان کرپٹ عناصر کی نشاندہی کے باوجود ان کے خلاف کاروائی نہیں کرتے جو ان حکام پر سوالیہ نشان ہے۔ انجمن تاجران کے عہدیداروں نے کہا کہ شبقدر بازار میں پرمٹ کے بہانے دن بھر غیر اعلانیہ بجلی بند کی جاتی ہیں جس سے بازار میں تاجر اور دوکاندار مشکلات کا شکار ہے ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے بازار میں چوری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوا ہیں۔ گذشتہ ایک ماہ کے دوران کئی دوکانوں سے رات کے وقت لاکھوں روپے اور قیمتی سامان چوری ہو چکے ہیں۔رات کے وقت بجلی بندش سے مقامی وپولیس اور چوکیداروں کو بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ تاجر برادری نے چیف پیسکو اور اعلی حکام سے شبقدر واپڈا میں موجود کرپٹ اہلکاروں کے خلاف فوری کاروائی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بجلی چوری میں ملوث کرپٹ عناصر اپریشن کے نام دوکانداروں کو بلیک میل اور ڈرا دھمکا کر لوٹ رہے ہیں۔ اگر واپڈا نے بازار میں غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کرپٹ اہلکاروں کے خلاف کار وائی نہ کی تو واپڈا کے خلاف شٹرڈاؤن ہڑتال اور احتجاجی مظاہرہ کرنے پر مجبور ہونگے۔