لاہور(مانند نیوز) پولیس نے دھمکیاں دینے کے کیس میں ملزمہ کے ساتھ کمسن بچی کو بھی حوالات میں بند کر دیا۔ لاہور میں ویمن انویسٹی گیشن پولیس نے 2021 میں درج 506 کے مقدمے میں خاتون اور بچی کو حراست میں لے کر حوالات میں بند کر دیا۔ خاتون کے خلاف تھانہ وحدت روڈ میں مقدمہ درج ہوا جس میں خاتون عارفہ پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے شہری کو دھمکیاں دی ہیں۔
پولیس نے دو سال بعد اچانک خاتون کے گھر پر چھاپہ مار کر ماں کے ساتھ کمسن بچی کو بھی گرفتار کر لیا۔پولیس کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ خاتون مقدمے میں اشتہاری تھی، وہ گرفتار ہونے پر بچی کو ساتھ لے آئی بچی کی ضد پر اسے کچھ دیر ماں کے ساتھ حوالات میں رکھا بعد میں اسے رشتہ دار لے گئے۔پولیس کا کہنا ہے خاتون کے خلاف دھمکیاں دینے کے الزام میں تھانہ وحدت کالونی میں مقدمہ درج ہوا تھا جبکہ خاتون کے رشتہ داروں کا کہنا ہے کہ ایف آئی آر میں خاتون پر کہیں بھی براہ راست دھمکیاں دینے کا الزام نہیں۔
دوسری جانب صوبہ پنجاب میں لاہور کے نواحی علاقہ چونیاں میں ایک فیکٹری ورکر کو فون پر معاشقہ انتہائی مہنگا پڑگیا۔ یہ واقعہ چونیاں کے قریبی علاقے الہ آباد میں پیش آیا جہاں کا رہائشی ایک فیکٹری ورکر اس وقت ہنی ٹریپ کا شکار ہوا جب گلشن اقبال کالونی میں فیکٹری ملازم رشید کو ایک خاتون نے فون پر دوستی کا جھانسہ دیا اور پھر ملاقات کے لیے اسے اپنے گھر بلالیا۔
پولیس نے واقعے کی تفصیل میں بتایا کہ جب رشید اس خاتون کے گھر پہنچا تو وہاں پہلے سے موجود خاتون اور اس کے ساتھی ملزمان نے پہلے تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا اس کے بعد فیکٹری ورکر کو برہنہ کیا اور اس کی ویڈیو بنالی، جس کے بعد ملزمان کی جانب سے رشید کو بلیک میل کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جس کے ذرہعے وہ اس سے ڈیڑھ لاکھ روپے ہتھیانے میں کامیاب ہوگئے۔