ہنگو(مانند نیوز) صوبائی اسمبلی کی نشست کا کم ہونا مقامی لیڈرشپ اور سیاسی جماعتوں کی ناکامی ہے، مردم شماری کے وقت مشران ذمہ دارانہ کردار ادا کرتے تو آج یہ مایوس کن صورتحال سامنے نہ آتی۔ الیکشن کمیشن کے بنچ کے روبرو میرے وکیل نے مضبوط اور ٹوس دلائل دئیے ہیں، پر امید ہوں کہ الیکشن کمیشن میرٹ پر فیصلہ کریگا۔ ضلع ہنگو کی ترقی و خوشحالی اور حقوق کیلئے ہمیشہ کی طرح اب بھی ہر فارم پر لڑ رہا ہوں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سیاسی و سماجی و روحانی شخصیت سید حسین علی شاہ الحسینی نے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ 2023 مردم شماری کے بعد الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نہ صرف قومی اسمبلی نشست کو اورکزئی کیساتھ منسلک کیا ہے بلکہ ہنگو کی صوبائی اسمبلی کے 2 نشستوں کو کم کر کے ایک کردیا ہے، یہ ضلع ہنگو کا وہ ناقابل تلافی نقصان ہے جس پر ہماری آنے والی نسلیں ہمیشہ ہمارے کردار پر انگلیاں اٹھائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ اگر مردم شماری کے موقع پر سیاسی جماعتیں اور مقامی لیڈرشپ سرگرمی دیکھاتی تو آج ہمیں دربدر نہ ہونا پرتا۔ سید حسین علی شاہ نے کہا کہ ہنگو کے نقصان کے آزالے کیلئے انہوں نے انفرادی طور پر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے بنچ کے سامنے کیس رکھا ہے، 3 نومبر کو ہونے والی کاروائی میں میرے وکیل نے درست اور حقائق سے ہم آہنگ دلائل دئیے ہیں جن پر الیکشن کمیشن کے بنچ نے اطمنان کا بھی اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں پر امید ہوں کہ الیکشن کمیشن میرٹ پر فیصلہ کرتے ہوئے ہنگو کی محروم نشست بحال کر دیگا۔