اسلام آباد(مانند نیوز ڈیسک) ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے کرپشن کیس میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو جوڈیشل ریمانڈپر اڈیالہ جیل بھیج دیا۔سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد پہنچایاگیا، اسد قیصر کوجوڈیشل مجسٹریٹ قدرت اللہ کی عدالت میں پیش کیا گیا۔دوران سماعت ایس ایچ او نے کہا کہ کرپشن کیس میں گرفتار کیا، جوڈیشل کیا جائے۔معاون وکیل پی ٹی آئی نے کہا کہ بیرسٹر گوہر علی نے پیش ہونا ہے، تھوڑا وقت دیا جائے، جس پر ایس ایچ او نے کہاکہ جوڈیشل کرناہے تاکہ محکمہ اینٹی کرپشن والے اپنا پراسس کرکے لے جاسکیں۔بعدازاں بیرسٹر گوہر اور شعیب شاہین عدالت میں پیش ہوئے، وکیل شعیب شاہین نے کہا کہ بتایا جائے پولیس چاہتی کیا ہے؟جس پر عدالت نے کہا کہ پولیس کہتی ہے جوڈیشل کیا جائے۔شعیب شاہین نے کہا کہ پولیس کو کیا جلدی ہے، کسی کے مقدمے میں گرفتار کرنے کا اختیار اسلام آباد پولیس کو کس نے دیا، الیکشن کا اعلان ہوا اور اسد قیصر کو گرفتار کرلیا گیا، اسد قیصر کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسد قیصر کو اس کیس میں رہا کیا جائے، اسد قیصر حفاظتی ضمانت بھی اپلائی کررہے ہیں۔دوران سماعت شعیب شاہین نے کہا کہ اینٹی کرپشن نے اسلام آباد پولیس سے مدد مانگی ہوتی تو الگ بات تھی جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ کچھ دن کا وقت دے دیتے ہیں ملزم کی منتقلی میں کچھ وقت بھی درکار ہوتا ہے، شعیب شاہین نے کہاکہ اسد قیصر کے پی کے جاتے رہتے ہیں انہوں نے گرفتار نہیں کیا، اسلام آباد پولیس کو لکھ دیا کہ اسد قیصر کو گرفتار کیا جائے جس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ یہ عدالت اسد قیصر کو ضمانت نہیں دے سکتی،سماعت میں10 منٹ کا وقفہ کردیا۔وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو بیرسٹر گوہر نے کہا کہ قانون توڑنے والے گھر بھی جاتے ہیں اور قانون توڑتے بھی ہیں، استدعا ہے کچھ دن دیے جائیں۔عدالت نے اسد قیصر کو جوڈیشل کرنے پر فیصلہ محفوظ کرلیا، عدالت نے اسد قیصر کو جوڈیشل لاک اپ میں رکھنے کا حکم دیتے ہوئے اسلام پولیس کے حوالے کردیا۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے حکم دیا کہ اسد قیصر کے حوالے سے ایک ہفتے کے اندر اینٹی کرپشن کے پی پولیس قانونی کارروائی مکمل کرے جس کے بعد پولیس اسد قیصر کو لے کر اڈیالہ جیل روانہ ہوگئی۔واضح رہے کہ گزشتہ روز پولیس نے اسلام آباد سے سابق سپیکر قومی اسمبلی اسدقیصر کو گرفتار کیا تھا۔