پشاور (مانند نیوز) چیف جسٹس پشاور ھائی کورٹ جسٹس محمد ابراہیم خان کے عدالتی حکم پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں صوبائی حکومت اور انتظامیہ مسلسل ناکامی سے دوچار ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اے سی پشاور کی عدالت کو یقین دہانی کہ رات 9بجے کے بعد بھیک مانگنے والے بچوں کو بھیک مانگنے کے لیے نہیں چھوڑا جائے گا۔ البتہ بچے ساری رات سردی میں ٹھٹرنے پر تحفظ فراہم کرنے پر انتظامیہ اور چائلڈ پروٹیکشن کمیشن کوئی عملی کام نہیں کرے گا۔تفصیلات کے مطابق گزشتہ رات 9بجے کے قریب بی آرٹی سٹیشن باچا خان چوک پربھیک مانگتا ہوا بچہ سردی سے بچنے کے لیے چادر لپیٹ کر سردی سے ٹھٹرتے ہوئے سوگیا۔ اور ریاست بھی گرم بستر پر سوئی رہی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں پشاور ھائی کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے تھے کہ رات 9بجے کے بعد کوئی بچہ سڑکوں پر بھیک مانگتے نظر آیا تو نہ چیف جسٹس سوئے گا اور نہ ہی اس صوبے کا وزیر اعلیٰ لیکن ان تمام دعوؤں اور احکامات کے برعکس بھیک مانگتے بچے مختلف سٹیشنوں میں سردی سے کانپتے ہوئے چادروں میں لپٹے ہوئے پائے گے۔ زیر تصویر ایسے اداروں کی کارگردگی پر سوالیہ نشان ہے۔