پبی (مانند نیوز ) اے این پی کے مرکزی جنرل سیکرٹری،میدوار برائے صوبائی اسمبلی حلقہ 89 میاں افتخار حسین نے کہا کہ میں پار ٹی میں نئے شمولیت اختیار کرنے والے ساتھیوں کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں نے غیرت مند پختون پاکستانی کا مظاہرہ کرکے ایک مضبوط نظریے کی حامل جماعت میں شمولیت اختیار کی یہ ان عناصر کے منہ پر تھپڑ ہے جو کبھی عوام,کبھی پاکستان اور کبھی اسلام کے نام پر آپ کو لوٹتے رہے. اب شکت ان کے مقدر میں لکھی جا چکی ہے اگر فری اینڈ فیئر الیکشن ہوئے اور ضلعی انتظامیہ نے مداخلت نا کی تو میں آپ سب کو یقین دلاتا ہوں کہ وزیر اعلی بننے کا دعوی کرنے والا صوبے کے تو کیا اپنے محلے کا وزیر اعلی بھی نہیں بن سکے گا. ہمارے علم میں ہے کہ ان کرپٹ کاروباری سیاسی گھرانے کو اپنی شکست صاف نظر آ رہی ہے اس لیے تو ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے ساتھ گٹھ جوڑ کر رہا ہے اور منت سماجت کر رہا ہے کہ میری سیاست داو پر لگی ہوئی ہے مجھے بچا لو. ایک طرف اپنی مرضی کے پریزاٹینڈنگ افسران لگا رہا ہے اور دوسری طرف بریف کیس بھر بھر کر لوگوں کو خریدنے میں لگا ہوا ہے. لیکن اب وہ دور نہیں رہا کہ آپ بوگس طریقے سے الیکشن جیت جائینگے اب شوشل میڈیا کا دور ہے ہمارے اور آپ کے الیکشن کمپین کے جلسے ریکارڈ ہو رہے ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دیکھ رہی ہے کہ ان کو کارنرز میٹنگ کرانے میں کتنی دشواریوں کا سامنا ہے جبکہ اتنے جلسوں کے باوجود روزانہ کی بنیاد پر کارنر میٹنگ اور جلسوں کے لیے لوگ وقت مانگ رہے ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے انتخابی مہم کے سلسلے میں عوامی نیشنل پارٹی کے این اے 34 و پی کے 89 کے امیدواروں کے کئی شمولیتی جلسوں، کارنرز میٹنگ اور چوکی ممریز میں زاہد آمین, تیمور, لیاقت علی,گل روذ علی, ابوبکر,ظہور,محمود, داود,زین علی,باسط علی,حشمت,رفیع اللہ, شوکت, شاہ حسین,اظہار,احسان, آفتاب, آفنان, حسنین, عدنان, عزیز علی, صدیق, فواد, رگو بھائی, محمد عدنان, عمیر, اظہر محمود, جنت گل, ارشاد,محمد آیاز, عبداللہ, یاسین, جمشید, آمان اللہ, محمد عباس, حسین, فیضان اور دانیال نے شمولیت اختیار کی اور کندی تازہ دین میں مکرم خان, ظہور شاہ, صفدر خان, اسلم خان, ظہور خان, بصیر خان, حمید اللہ, حبیب اللہ ماما,سلیم خان, الطاف,عبداللہ, عمیر اللہ, خورشید الطاف, شمر علی, طاہر خان, عبد اللہ, بلال,عاصم,منیر, زین اللہ, آفاق, وقار, حمزہ, عادل, حارث, کامران, اسد, ثاقب, حسین, ساحر گل,عرفان, موسی, ابرار اور زیب اللہ کے اے این پی میں شمولیت کے موقع پر خطاب کر تے ہو ئے کیا جس سے عباس خان خان غازی اور دیگر قائدین نے بھی خطاب کیا میاں افتحار حسین نے کہا کہ آنے والا الیکشن پولنگ ایجنٹ کے امتحان کا الیکشن ہے اگر پولنگ ایجنٹ مضبوط اور قابل ہونگے یہ لوگ باوجود مرضی کے پریزاٹینڈنگ افسران ہم سے الیکشن نہیں جیت سکیں گے اور اس کے لیے ہماری پروفیشنل ٹیم نے ابھی سے تیاری شروع کی ہے. انشآء اللہ اس بار عوامی نیشنل پارٹی کے رضاکار کارکن ان کے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہونے دینگے شمولیتی جلسوں اور کارنر میٹنگوں سے خطاب کرتے ہوئے امیدوار برائے قومی اسمبلی حلقہ 34میاں بابر شاہ کا کا خیل نے کہا کہ آپ سب کو اے این پی میں شمولیت اختیار کرنے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ لوگوں کے جذبے کو دیکھ کر ایسا لگ رہا ہے کہ آنے والے دور کا سورج عوامی نیشنل پارٹی کے کامیابی کا پیام لیکر طلوع ہوگا اور نئے پاکستان کے نام پر پاکستان لوٹنے والوں اور خاص ضلع نوشہرہ کے کاروباری سیاست کرنے والوں کو عوام عبرت ناک شکت سے دو چار کرکے ان کی سیاسی تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگی. انہوں نے کہا کہ میرے مدمقابل امیدوار کے سسر نے بطور وزیر اعلی کرپشن کے وہ ریکارڈ قائم کیے تھے جس کی مثال نہیں ملتی اور تو اور مساجد اور مدارس کے لیے جو انرجی سولر منظور کیے تھے وہ اپنے زر خرید غلام ٹھکیداروں اور ناظمین نے اپنے حجروں اور گھروں میں نصف کیے اور خود بی آر ٹی اور ملم جبہ میں کرپشن کے ریکارڈ قائم کرکے اپنے مالی وسائل میں اضافہ کیا لیکن صوبے میں تو کیا ضلع نوشہرہ میں کوئی بڑا ترقیاتی پراجیکٹ شروع نہیں کیا اور اب پہلے سے دعوی کر رہا ہے کہ میں آنے والا وزیر اعلی ہوں انشا ء اللہ 8 فروری کو ضلع نوشہرہ سے ان کی سیاست کا جنازہ نکل جائے.عوامی نیشنل پارٹی نے پی کے 89 میں شمولیتی پروگراموں میں ریکارڈ قائم کیا ہوا ہے اور آئے روز دیگر پارٹیوں سے کارکنان جوق در جوق اے این پی میں شمولیت اختیار کر رہے ہیں اور ایسا لگ رہا ہے کہ پی کے 89 میں عوامی نیشنل پارٹی بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی.