شانگلہ(مانند نیوز)شانگلہ سے تعلق رکھنے والے مزدوروں کی لاشوں کا سلسلہ جاری، تین دنوں میں دوسرا واقعہ کان کن جان کی بازی ہار گیا۔حیدرآباد کول مائنز میں شانگلہ سانگڑئی شہتوت سے تعلق رکھنے والے علیم اللہ دوران کام جان کی بازی ہارگئے۔شانگلہ سے تعلق رکھنے والے کان کنان کی مسلسل حادثات میں ہلاکتیں ایک بڑا علمیہ ہے۔علیم اللہ کے علاوہ گزشتہ روز جہلم میں کان کن اختر گل کان کے اندر کرنٹ لگنے سے جان بحق ہوا تھا۔شانگلہ کے65فیصد سے زائد افراد کوئلہ کے کانوں کے صنعت سے وابستہ ہیں اور ہزاروں فٹ زمین کے اندر خطرناک ترین کم میں مہارت رکھنے والے شانگلہ کے ہزاروں بدقسمت کان کن رزق حلال کی تلاش میں مسلسل حادثات کا شکار ہوتے ہیں جسمیں بیشتر ہلاک جبکہ سینکڑوں کی تعداد میں زخمی اب معذور ہوچکے ہیں کیلئے کوئی متبادل روزگار موجود نہیں۔شانگلہ جہاں بنیادی سہولیات کے فقدان کے ساتھ ساتھ کاروباری مواقعے نہ ہونے کے برابر ہیں،نہ کوئی انڈسٹری اور نہ کوئی صنعت کی وجہ سے یہاں کے مزدور اپنے جانوں کی بازی داؤ پر لگاکر کوئلہ کان جیسے خطرناک کام پر توجہ دیتے ہیں۔۔