پشاور(مانند نیوز) فیڈریشن آف پاکستان چیمبر ز آف کامرس اینڈ انڈسٹری قائمہ کمیٹی برائے زراعت کے سربراہ چوہدری احمد جواد نے کہاہے کہ پاکستان ہارٹی کلچر وژن 2030 سے قومی برآمدات میں 6 ارب ڈالر کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ در حقیقت پاکستان ہارٹی کلچر کی عالمی مارکیٹ میں خاطر خواہ اضافہ نہیں کر سکا، 2022 کے دوران شعبہ کی عالمی تجارت 200 ارب ڈالر سے زیادہ رہی ہے۔ چوہدری احمد جواد نے فیڈریشن آفس میں میڈیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصر کی زرعی شعبہ کی پائیدار ترقی کی حکمت عملی پاکستان کیلئے سودمند ثابت ہو سکتی ہے جس کے تحت مصر نے ہارٹی کلچر کے شعبہ کی برآمدات کے فروغ پر توجہ دیتے ہوئے ہارٹی کلچر کی اپنی برآمدات کو 3.2 ارب ڈالر تک توسیع دی۔ احمد جواد نے مزید کہا کہ پاکستان ترشاوہ پھل پیدا کرنے والے دس بڑے ممالک میں شامل ہے تاہم پیداوار کے مقابلہ میں برآمدات کا تناسب کم ہے۔ پاکستان میں ہارٹی کلچر کے شعبہ میں پیدا ہونے والا ایک بڑا پھل کینو ہے جو اپنے معیار اور ذائقہ کی وجہ سے بڑی برآمدات میں شامل ہونے کی بھرپور استعداد رکھتا ہے لیکن ایران اور افغانستان کو کینو کی برآمدات کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنے اور پرایسنگ کے معیار میں بہتری کی ضرورت ہے۔ احمد جواد نے مزید بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک کیلئے کینو کی برآمدات میں صرف 2.6 فیصد ہدف رکھا گیا ہے کیونکہ ان ممالک میں بغیر بیج کے کینو کی طلب ہے اور کینو و ترشاوہ پھلوں کی عالمی تجارت میں بغیر بیج کے پھلوں کی طلب 61 فیصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ روس، ویتنام اور انڈونیشیا نے پاکستانی کینو کیلئے صفر فیصد ٹیرف کی پہشکش کی ہے لیکن کوٹا اس وقت جاری کیا جاتا ہے جب سیزن اختتام کے قریب ہوتاہے۔ اس کے باوجود ہم نے حکومت کو تجویز پہش کی ہے کہ انڈونیشیا کو پام آئیل کی خریداری کے بدلے کینو برآمد کیا جائے۔ ایک سوال کے جواب میں احمد جواد نے بتایا ہارٹی کلچر وژن 2030 کے تحت موثر اقدامات کے ذریعے پاکستان صرف دو سال کے قلیل عرصہ کے دوران پھلوں اور سبزیوں کی برآمدات 2 ارب ڈالر تک بڑھائی جا سکتی ہیں جبکہ چھ سال میں برآمدات کو 6 ارب ڈالر تک توسیع دی جا سکتی ہے۔ احمد جواد نے توقع بھی ظاہر کی کہ وفاقی حکومت نئی ایکسپورٹ پالیسی جلد مرتب دے گی جس سے پاکستان کی غیر روایتی مصنوعات اور ہارٹیکلچر کی برآمدات میں اضافہ ہوگا۔پچھلی حکومت نے 2025 تک ہارٹیکلچر کی برآمدات کا ہدف 1.36 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو ہدف ممکن نہ ہوسکا۔انہوں نے کہا نئی پالیسی میں علاقائی رابطوں کے فروغ کے تحت ” لک افریقہ پالیسی” اور آزادانہ و ترجیحی تجارت کیمعاہدوں سے قومی برآمدات کے فروغ میں مددملے گی۔