جنوبی وزیرستان (مانند نیوز) محکمہ لائیو اسٹاک ڈیپارٹمنٹ جنوبی وزیرستان اپر سرکاری ادویات فروخت کرنے کا گڑھ بن گیا، صرف کاغذی کاروائی تک محدود، جبکہ گراؤنڈ پر کارکردگی صفر، عرصہ دراز سے تعینات اسٹاف کروڑ پتی بن گیا، حکام بالا سے اسٹاف کی فل فور تبادلے سمیت گزشتہ دو تین سالوں کے دوران آنے والے ادویات کی اعلیٰ سطح انکوائری کیلئے کمیشن تشکیل دی جانے کا مطالبہ،جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے قبائلی عمائدین نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ آپریشن راہ نجات سے لے کر اب تک جنوبی وزیرستان کے لوگ متاثرین کی زندگیاں گزارنے کے بعد اب جب دوبارہ اپنے علاقوں میں آباد ہوگئے انکا گزر بسر مالداری پر ہے، موسم سرما میں یہاں زیادہ ٹھنڈ پڑنے کے باعث مال مویشیاں اکثر محلق اور جان لیوا بیماریوں کے شکار ہو جاتے ہیں جبکہ جنوبی وزیرستان کے محکمہ لائیو اسٹاک نے سرکاری اسپتالوں، مراکز کو تالے لگا کر اکثر سٹاف گٹھ جوڑ کے تحت گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں اس کے ساتھ ساتھ ذرائع کے مطابق محکمے کے لئے آنے والی سرکاری ادویات انجیکشن و پروٹینز پر ناٹ فار سیل سٹیمپ نہ ہونے کے باعث عملہ پرائیویٹ اسٹورز پر فروخت کئے جاتے ہیں، جب اس بارے میں محکمہ لا ئیو سٹاک جنوبی وزیرستان سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا تو انہوں نے اس بارے موقف دینے سے صاف انکار کیا،عمائدین کا کہنا ہے کہ گزشتہ مہینے درجنوں جانور مہلک بیماری کے باعث ہلاک ہوگئے، مقامی باشندوں نے یہ بھی بتایا ہے کہ محکمہ لائیو اسٹاک جنوبی وزیرستان کے ڈپٹی ڈائریکٹر ان سب معاملات پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، قبائلی عمائدین نے اس بابت وزیراعلی خیبرپختونخوا علی امین خان گنڈہ پور، ڈائریکٹر و سیکرٹری لائیو اسٹاک خیبرپختونخواہ، کمشنرڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن، ڈپٹی کمشنر جنوبی وزیرستان اپر سے اعلیٰ سطح انکوائری کمیشن کا مطالبہ دہرایا ہے۔