پشاور (مانند نیوز )سانحہ 9 مئی کا ایک سال مکمل ہونیکی مناسبت سے گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے جمعرات کے روز ضلع صوابی کا خصوصی دورہ کیا اور شہید کیپٹن کرنل شیر خان کے مزار پر حاضری دی۔ گورنر نے شہید کرنل شیر خان کی قبر پر پھولوں کی چادر چڑھائی، فاتحہ خوانی کی اور کرنل شیر خان سمیت تمام شہداء کے درجات بلندی اور ملکی استحکام و ترقی کی دعا کی۔ اس موقع پر شہید کرنل شیرخان کے عزیز و اقارب، ڈپٹی کمشنر، ڈی پی او سمیت پی پی پی رہنما بلند خان ترکئی بھی موجود تھے۔بعدازاں گورنرنے ریڈیوپاکستان پشاور کا بھی دورہ کیا جس کو گذشتہ سال 9 مئی کے دن شرپسند گروہ کی جانب سے آگ لگائی گئی تھی اور اس میں موجود تاریخی اثاثہ جات وریکارڈ کوجلایاگیاتھا۔ اس موقع پر اپوزیشن لیڈر صوبائی اسمبلی ڈاکٹرعباداللہ سمیت دیگر اراکین صوبائی اسمبلی بھی موجود تھے۔گورنرنے ریڈیو پاکستان کی تاریخی متاثرہ عمارت کا معائنہ کیااور یادگارپرپھول بھی چڑھائے۔ دونوں جگہوں پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گورنرنے کہاکہ 9 مئی کے واقعات سے ملکی ساکھ کو نقصان پہنچا، آج کے دن ایک سال قبل ملک میں آگ لگا کر ملک دشمنوں کے مفادات پورے کیے گئے۔انہوں نے کہاکہ پوری قوم ریاست و عدالتوں سے 9 مئی کے شر پسند عناصر کو قرار واقعی سزا کی منتظر ہے،اگر 9 مئی کے شرپسند ملک دشمن عناصر کو سزا نہ ملی تو کل کوئی اور گروہ ایسی مذموم سازش کیلئے نکل آئے گا۔گورنرنے شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک سال قبل آج کے دن شہداء کے مجسموں اور یادگاروں کو جلا کر شہداء کے وارثین کے دل زخمی کئے گیے۔ بحیثیت پاکستانی ہمیں ریاست اور ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کیلئے کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ 9 مئی کو ریاست اور فوج کو کمزور کرنے کی سازش کی گئی، ریاستی اداروں اور املاک کو نقصان پہنچایاگیا۔پاکستانی مسلح افواج مختلف خطرات سے قوم کے دفاع میں پیش پیش رہی ہیں اور پوری قوم کو اپنے افواج پرفخرہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال آج ہی کے دن ایک سیاسی جماعت، شرپسند ٹولے کی جانب سے ملکی تنصیبات، ریاستی اداروں پر حملے کیلئے نوجوانوں کو ورغلانے اور کارکنوں کو ہدایات جاری کرنیکی ویڈیو و آڈیو کلپس آج بھی پوری قوم دیکھ رہی ہے، اس شر پسند ٹولے کو ریاست اور قوم سے معافی مانگنی پڑے گی کیونکہ انہوں نے وہ کام کیا جوملک دشمن عناصر بھی نہیں کرسکتے تھے۔انہوں نے کہا کہ آج صوبہ میں امن وامان کی انتہائی مخدوش حالات ہیں، موجودہ صوبائی حکومت کو تجویز پیش کرتاہوں کہ وہ صوبے کی امن وامان پر اپنی توجہ مرکوز کریں۔ وفاق کے نمائندے کی حیثیت سے پل کا کردار ادا کرنیکی کی پوری کوشش کروں گا۔#