ہنگو(مانند نیوز) ہنگو ڈویژن میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ سنگین ہو گیا،مختلف فیڈرز پر پانچ گھنٹوں سے 19 گھنٹے تک لوڈ شیڈنگ نے عوام کو چکرا کر رکھ دیا،انتظامیہ اور واپڈا حکام کی مشترکہ ٹیمیں بھی اہداف کے حصول میں ناکام،سمانہ فیڈر پر دس گھنٹے بجلی کی سپلائی کا شیڈول بھی عوام کے لیے درد سر بن گیا،کئی علاقوں میں احتجاج۔تفصیلات کے مطابق ہنگو ضلع میں بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے کاروباری زندگی معطل ہو کر رہ گئی ہے,کئی علاقوں میں اٹھارہ اور انیس گھنٹے اعلانیہ لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے اس کے علاؤہ غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ بھی کی جا رہی ہے بد انتظامی اور مسائل کا حال یہ ہے کہ ہنگو جیل سمانہ فیڈر کے ساتھ ہے اور حکومت نے جیل کو بلا تعطل بجلی کی فراہمی کے احکامات جاری کر رکھے ہیں۔جس پر ہنگو ڈسٹرکٹ جیل کو شام سات بجے سے صبح سات بجے تک بلا تعطل بجلی فراہم کی جا رہی ہے اس طرح اس فیڈر پر دس گھنٹے بجلی کی فراہمی کا شیڈول پورا ہو جاتا ہے اور یوں سارا دن سمانہ فیڈر کے صارفین بجلی کی سہولت سے مکمل محروم ہوتے ہیں،واپڈا ہنگو حکام کا کہنا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کا شیڈول ریکوری مہم اور کنڈا کلچر سے جڑا ہوا ہے ریکوری بہتر ہو جائے اور بجلی چوری کی روک تھام سے لوڈ شیڈنگ دورانیے میں کمی ممکن ہو سکتی ہے۔علاوہ ازیں پیسکو ہنگو ڈویژن میں 398 پوسٹیں ہیں مگر 64 ملازمین یہاں کام کر رہے ہیں جس کی وجہ سے مسائل سامنے آ رہے ہیں اور فالٹ کی صورت میں کئی کئی گھنٹے بجلی کی فراہمی معطل رہتی ہے۔اس کے علاؤہ ٹرانسلیشن لائن کئی دہائیاں پہلے بچھائی گئی تھی اور اس کی لمبائی اور طوالت بھی مسائل میں ایک بڑا مسئلہ ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ واپڈا حکام،انتظامیہ اور قومی نمائیندے مل بیٹھ کر اصل ایشوز کو ایڈریس کریں اور لوڈ شیڈنگ دورانیے میں کمی لانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کی جائیں۔