پشاور(مانند نیوز)آل پارٹیزسٹوڈنٹ یونین نے پاکستان بھر میں طلباء یونین کی بحالی کے حوالے سے اسلامی مرکز پشاور میں تقریب کا انعقاد کیا، جس میں وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف کے علاوہ انصاف سٹوڈنٹس فیڈریشن، اسلامی جمعیت طلبہ، مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن، پختون سٹوڈنٹس فیڈریشن اور دیگر طلباء تنظیموں کے نمائندے شریک ہوئے۔ تقریب کا مقصد طلباء کی نمائندگی اور یونین کی بحالی کی اہمیت کو اجاگر کرنا تھا۔ اس موقع پر مشیر اطلاعات بیرسٹر ڈاکٹر سیف نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ طلباء یونین کی بحالی کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے تاکہ طلباء کو اپنی نمائندگی کا حق مل سکے اور ان کی آواز بھی تعلیمی اداروں میں سنی جائے۔ انہوں نے کہا کہ طلباء یونین پر پابندی سے ملکی سیاست پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں سیاست جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے کنٹرول میں چلی گئی ہے۔ طلباء یونین کو حقیقی عوامی نمائندے پیدا کرنے کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے ڈاکٹر سیف نے کہا کہ طلباء کے حقوق کے تحفظ کے لیے یونین کی بحالی ضروری ہے۔ ڈاکٹر سیف نے تعلیمی اداروں میں اجتماعات پر پابندی کو آئین کے آرٹیکل 17 اور آزادی اظہار رائے کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا اور یقین دلایا کہ جلد ہی تمام طلباء تنظیموں کے رہنماؤں کی محکمہ اعلیٰ تعلیم کے وزیر مینا خان آفریدی اور سیکرٹری اعلیٰ تعلیم سے ملاقات کروائی جائے گی، جس میں طلباء کے مسائل کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھاے جائیں گے۔ تقریب کے شرکاء نے طلباء یونین کی بحالی کو تعلیمی اداروں میں طلباء کے مسائل کا واحد حل قرار دیا اور کہا کہ کالجوں اور یونیورسٹیوں میں طلباء کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے طلباء یونین کی بحالی ضروری ہے۔ طلباء رہنماؤں نے تعلیمی اداروں میں طلباء اجتماعات پر پابندی کو آئین کی خلاف ورزی قرار دیا اور اس بات پر زور دیا کہ طلباء کی آزادی اظہار رائے کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے۔مشیر اطلاعات ڈاکٹر سیف نے مزید کہا کہ طلباء یونینز پر پابندی ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے، اور اس سلسلے میں وہ وزیراعلی خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کو اس مسئلے کے حوالے سے آگاہ کریں گے اور درخواست کریں گے کہ صوبائی اسمبلی میں یہ مسئلہ اٹھایا جائے تاکہ پابندی کو ختم کیا جاسکے۔