وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کے نومنتخب نمائندگان کو "چلو چلو اسلام آباد چلو” کے نعروں کے بجائے امن و استحکام کے جھنڈے لے کر وانا کا رخ کرنا چاہئے۔ عوام نے آپ کو اس لئے منتخب کیا تھا کہ آپ ان کے مسائل حل کریں اور علاقے میں امن و سکون قائم کریں، نہ کہ اسلام آباد کی سیاسی سرگرمیوں کا حصہ بنیں۔ جنوبی وزیرستان اس وقت شدید بدامنی کا شکار ہے، جہاں عوام خوف اور عدم تحفظ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایسے میں عوام اپنے نمائندوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان کے تحفظ اور بہبود کے لئے عملی اقدامات کریں گے۔ عوام کا سوال یہ ہے کہ اگر نمائندے 24 نومبر کو اسلام آباد جا سکتے ہیں تو اپنے علاقے کیوں نہیں جا سکتے؟ کیا وہ عوام کی خدمت کے لئے منتخب ہوئے تھے یا کسی اور کے احکامات کے پابند ہیں؟ یہ وقت ہے کہ نمائندے اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور اسلام آباد کی سیاست کو پس پشت ڈال کر اپنے حلقے کے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں۔ عوامی توقعات یہ ہیں کہ نمائندے علاقے کے مسائل کو ترجیح دیں، امن قائم کریں، اور ترقیاتی کاموں کا آغاز کریں۔ جنوبی وزیرستان جیسے حساس علاقے میں سیاسی نمائندوں کی ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ انہیں چاہئے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کے درمیان موجود رہ کر ان کے مسائل سنیں اور ان کا حل نکالیں۔ عوام کو کسی نعروں یا سیاسی تماشوں کی ضرورت نہیں، بلکہ عملی اقدامات اور حقیقی قیادت کی ضرورت ہے۔ لہٰذا، آج وقت کا تقاضا ہے کہ نمائندے اسلام آباد کی سیاست میں وقت ضائع کرنے کے بجائے اپنے علاقے میں امن و سکون کے لئے کام کریں۔ عوام کا اعتماد بحال کرنا اور ان کے مسائل حل کرنا ہی ان کی اصل ذمہ داری ہے۔