پشاور (مانند نیوز) خیبرپختونخوا حکومت نے کل ہی انسدادِ بدعنوانی ہفتہ منانے کے باوجود اور وزیر اعلیٰ خیبر پختون خوا علی امین گنڈا پور کے اسمبلی فلور پر کرپشن نہ کرنے اور نہ ہونے کا حلف کر نے کا دعویٰ کرنے والے صوبے کے عوام کو شفافیت فراہم کرنے میں ناکام ہوگئی ہے، تفصیلات کے مطابق عوام کے ادا کردہ ٹیکس پر چلنے والی ہزاروں حکومتی گاڑیاں غیر متعلقہ افراد کے زیرِ استعمال ہیں۔ لیکن کوئی ایسا مؤثر نظام موجود نہیں جس سے عوام کے لیے حکومتی گاڑیوں کی آن لائن تصدیق ممکن نہیں رہی۔جو ان گاڑیوں کی تفصیلات فراہم کرے یا ان کے غلط استعمال کو روکے۔ خیبرپختونخوا محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی جانب سے فراہم کردہ آن لائن نظام عوام کو گاڑیوں کی تصدیق کی سہولت فراہم کرنے کے دعوے کرتا ہے، لیکن اس نظام کی ویب سائٹ پر واضح طور پر لکھا ہے کہ فراہم کردہ معلومات کو درست، مکمل یا تازہ ترین نہیں کہا جا سکتا اور محکمے پر کسی غلطی کی صورت میں کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی۔ مزید برآں، عوامی سہولت کے لیے متعارف کروائی گئی زما کے پی ایپ بھی ناکارہ ثابت ہو رہی ہے، کیونکہ یہ پرانی اور غیر مؤثر معلومات فراہم کرتی ہے۔ عوام یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ صوبائی حکومت آخر بدعنوانی کو کم کرنے اور شہریوں کو ان کے وسائل پر معلومات کے حق کی فراہمی میں سنجیدہ کیوں نہیں؟ انسدادِ بدعنوانی ہفتہ کے دوران حکومت کے یہ دعوے کہ بدعنوانی کے خلاف سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، حقیقت کے برعکس معلوم ہوتے ہیں۔ عوام کو ان گاڑیوں کے استعمال اور ان کی تفصیلات جاننے کے لیے کسی عملی حل کا انتظار ہے تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ ان کے ادا کردہ ٹیکس سے چلنے والے وسائل کہاں استعمال ہو رہے ہیں۔ صوبے کے عوام نے اس بات پر سخت تحفظات کا اظہار کیا ہے کہ ان کی ٹیکس کی رقم سے چلنے والے حکومتی وسائل عوام کے بجائے غیر متعلقہ افراد کے زیرِ استعمال ہیں اور ان کی تصدیق کے لیے فراہم کردہ سسٹمز غیر فعال اور غیر شفاف ہیں۔ عوام کا مطالبہ ہے کہ خیبرپختونخوا حکومت فوری طور پر ایک ایسا شفاف اور مؤثر نظام متعارف کروائے جو حکومتی گاڑیوں کی تصدیق کے لیے صحیح معلومات فراہم کرے۔ اس نظام کے ذریعے عوام کو ان گاڑیوں کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی جائے تاکہ بدعنوانی کو کم کرنے میں مدد مل سکے۔ انسدادِ بدعنوانی ہفتہ منانے کے دعوے محض دکھاوا ہیں جب تک کہ عملی اقدامات نہ کیے جائیں اور عوام کو ان کے وسائل کی شفافیت اور جوابدہی کا حق نہ دیا جائے۔