وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر کے علاقے مغل خیل سے تعلق رکھنے والے ملک اطلس خان مغل خیل کے خاندان میں وراثتی حقوق کے حوالے سے ایک تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب ملک اطلس خان مغل خیل کے بھتیجے حزب اللہ بہیر ولد نور خان مغل خیل نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ ان کے چچا ملک اطلس خان مغل خیل نے اپنی بہن کو وراثتی حقوق دے کر علاقے میں ایک مثال قائم کی ہے۔ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں حزب اللہ بہیر نے کہا کہ ملک اطلس خان مغل خیل کا اپنی بہن کو ان کا جائز حصہ دینا وزیرستان جیسے علاقے میں ایک غیر معمولی اقدام ہے، جہاں خواتین کو اکثر وراثتی حقوق سے محروم رکھا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے چچا کے اس عمل کو قابلِ تحسین قرار دیا اور اسے دیگر لوگوں کے لیے ایک مثال کے طور پر پیش کیا۔ حزب اللہ بہیر نے یہ بھی کہا کہ اگر جنوبی وزیرستان میں ہر خاندان خواتین کو ان کے جائز حقوق دے، تو یہ ایک بڑی سماجی تبدیلی کا آغاز ہو سکتا ہے۔ حزب اللہ بہیر کی اس پوسٹ کے بعد ملک اطلس خان کے تین بیٹوں، رسول منان وزیر، ملک رسول زمان، اور گوہر زمان نے ایک تردیدی بیان جاری کیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے حزب اللہ بہیر کے دعوے کو من گھڑت، جھوٹا، اور بے بنیاد قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد نے کبھی بھی اپنی بہن کو وراثتی حقوق نہیں دیے اور نہ ہی اس بارے میں کوئی بیان جاری کیا۔ ملک اطلس خان مغل خیل کے بیٹوں نے مزید وضاحت کی کہ چند سال قبل ان کے والد نے دو معتبر گواہوں ملک پیراخان اواس خیل اور ملک ضیاء الدین اکبر خیل کی موجودگی میں اپنی جائیداد تینوں بھائیوں میں تقسیم کر دی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کے والد عمر رسیدہ ہیں، اور کسی بھی لین دین یا قانونی معاملات کے لیے ان تینوں بھائیوں سے براہِ راست رابطہ کیا جائے۔