وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان لوئر نیبرہوڈ کونسل سٹی ون کے چیئرمین جلال اکبر وزیر نے کہا ہے کہ سٹی ون میں موجود ترکول پلانٹ سے اٹھنے والا زہریلا دھواں انسانی صحت اور قدرتی ماحول کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔ یہ دھواں علاقے کی گنجان آبادی کے بیچ و بیچ موجود پلانٹ سے خارج ہو رہا ہے، جس کے باعث مقامی لوگ شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ علاقے کے مکین اس مسئلے پر گزشتہ ایک سال سے احتجاج کر رہے ہیں اور بارہا ضلعی انتظامیہ کو درخواستیں دی ہیں کہ وہ قوانین کے مطابق مناسب حکمتِ عملی اپناتے ہوئے اس سنگین مسئلے کا حل نکالے۔ چیئرمین جلال اکبر وزیر نے مزید کہا کہ زہریلے دھوئیں کی وجہ سے شہری مختلف بیماریوں میں مبتلا ہو رہے ہیں اور ماحولیاتی نظام بھی بری طرح متاثر ہو رہا ہے، جو علاقے کے مستقبل کے لیے انتہائی تشویشناک ہے۔ںچیئرمین جلال اکبر وزیر نے کہا کہ ترکول پلانٹ سے نکلنے والا دھواں نہ صرف فضائی آلودگی کا باعث بن رہا ہے بلکہ اس کی موجودگی سے مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکول پلانٹس کے لیے جدید ماحولیاتی تحفظ کے اصولوں کو اپنانا ضروری ہے تاکہ انسانی صحت اور قدرتی ماحول دونوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔ مزید برآں، عوامی احتجاج کے باوجود ضلعی انتظامیہ کی خاموشی نہایت افسوسناک ہے۔ چیئرمین جلال اکبر وزیر نے کہا کہ یہ مسئلہ نہ صرف عوامی صحت بلکہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے، اور اس کے فوری حل کے بغیر علاقے میں بڑھتے ہوئے مسائل پر قابو پانا ممکن نہیں۔ علاقے کے عوام نے ضلعی انتظامیہ اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ ترکول پلانٹ کے نظام کو ایسا بنایا جائے کہ یہ ماحول کو آلودہ کیے بغیر کام کرے۔ مزید یہ کہ متعلقہ ادارے فوری اقدامات اٹھا کر سٹی ون کے رہائشیوں کو اس زہر آلود دھوئیں سے نجات دلائیں۔ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کریں اور عملی اقدامات اٹھائیں تاکہ جنوبی وزیرستان کے عوام اس سنگین ماحولیاتی بحران سے نجات حاصل کر سکیں۔

By Manend Team

Manend, a top Pakistani Media can be seen on, Facebook ,Youtube, Twitter etc. Manend Media provides News in Peshawar, Kohat, Bannu, DI Khan, Mardan, Hazara , Abattablad, Malakand, Pakistan , Pakhtunkhwa in Urdu and English and Pashto Language of Latest and Breaking Nature consisting of News, Education Opinion and Entertainment

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے