پشاور (مانند نیوز)صوبہ خیبر پختونخوا میں آزاد، خودمختار اور حقیقی صحافت کے فروغ کے لییصوبائی پریس کلب اورصوبائی رجسٹرڈ یونین آف جرنلسٹس کے قیام پر عملی کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد صحافیوں کے حقوق کا تحفظ، غیر حقیقی اور غیر مستند افراد کی صحافت میں مداخلت کا خاتمہ، اور زرد صحافت کے بڑھتے ہوئے رجحان کو روکنا ہے۔ پشاور کے سینئر صحافی اوردوادزئی پریس کلب کے بانی فیاض علی نور نے مختلف صحافتی برادری، مپریس کلبوں کے عہدیداران اور دیگرشراکت داروں سے مشاورت کے بعد اعلان کیا ہے کہ یہ اقدام رمضان المبارک کے دوران قانونی طور پر عملی شکل اختیار کر لے گا۔ ان کے مطابق، صحافی برادری کو ایک ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا وقت کی ضرورت بن چکا ہے جہاں صحافت کے اصولوں کی پاسداری، حقیقی صحافیوں کا تحفظ اور پریس کلبوں کے درمیان اتحاد کو فروغ دیا جا سکے۔ واضح رہے کہ خیبر پختونخوا کے کئی پریس کلب اس وقت اندرونی اختلافات، غیر حقیقی صحافیوں اور سرکاری ملازمین سمیت سیاسی مداخلت اور مخصوص گروہوں کی اجارہ داری کا شکار ہیں، جس کی وجہ سے حقیقی صحافی نظرانداز ہو رہے ہیں۔ بہت سے پریس کلب ایسے افراد کے زیر اثر ہیں جو نہ تو عملی صحافت سے وابستہ ہیں اور نہ ہی ان کا مقصد عوام تک درست معلومات پہنچانا ہے۔ اس صورتِ حال میں، ایک صوبائی سطح کا مضبوط پریس کلب اور ایک رجسٹرڈ یونین نہ صرف صحافیوں کے حقوق کی حفاظت کرے گی بلکہ صحافت میں شفافیت اور پیشہ ورانہ معیار کو بھی یقینی بنائے گی۔ اس مقصد کے تحت،پہلا قدم مردان میں تحصیل اور ضلعی سطح پر پریس کلبوں کے درمیان اتحاد کی شکل میں اٹھایا جا چکا ہے جو کہ خوش آئند ہے۔ اسی جذبہ کے تحت بعد ازاں، خیبر پختونخوا کے دیگر اضلاع بشمول ضم اضلاع میں بھی اس مہم کو وسعت دی جائے گی تاکہ تمام پریس کلب ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکیں۔ مزید برآں، صوبائی دارالحکومت پشاور میں ایک مرکزی دفتر کے قیام پر غور کیا جا رہا ہے، جہاں سے صحافتی امور کی نگرانی اور مسائل کے حل کے لیے لائحہ عمل ترتیب دیا جائے گا۔ یہ دفتر ایک ایسا مرکز ہوگا جو حقیقی صحافیوں کے حقوق کے تحفظ کے ساتھ ساتھ محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ میں جاری اندرونی کشمکش کو ختم کرنے میں بھی معاون ثابت ہوگا۔ اس وقت خیبر پختونخوا میں کئی ایسے نام نہاد صحافی سرگرم ہیں جو بغیر کسی تصدیق کے جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں، عوام کو گمراہ کر رہے ہیں اور صحافت جیسے مقدس پیشے کو بدنام کر رہے ہیں۔ ایسے عناصر کے خلاف کارروائی اور حقیقی صحافیوں کو قانونی تحفظ دینے کے لییصوبائی رجسٹرڈ یونین آف جرنلسٹس کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔ اس ضمن میں بہت جلد ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جائے گا۔ جس میں اس اقدام کے حتمی فیصلے، طریقہ کار اور عمل درآمد کے حوالے سے تفصیلات کو منظر عام پر لایا جائے گا۔ یہ اقدام خیبر پختونخوا میں صحافیوں کے حقوق، صحافت کی آزادی اور پیشہ ورانہ اصولوں کی پاسداری کے لیے ایک تاریخی سنگ میل ثابت ہوگا۔ صحافی برادری، میڈیا تنظیمیں اور عوامی حلقے اس پیش رفت کوصحافت کی بقا اور ترقی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دے رہے ہیں۔