وانا (مانند نیوز) جنوبی وزیرستان کی اہم شاہراہ، وانا گومل زام روڈ کی خراب حالت نے مسافروں، ٹرانسپورٹروں اور تاجروں کے لیے شدید مشکلات کھڑی کر دی ہیں۔ سڑک پر جگہ جگہ گہرے گڑھے، کچی اور ٹوٹی ہوئی سطح اور معمولی بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ جیسے مسائل ٹریفک کی روانی کو بری طرح متاثر کر رہے ہیں۔یہ شاہراہ، جو وانا کو گومل زام سے جوڑتی ہے، پاک افغان تجارت کے لیے ایک مرکزی راستہ ہے اور روزانہ سیکڑوں چھوٹی اور بڑی گاڑیاں اس پر آمد و رفت کرتی ہیں۔ تاہم، سڑک کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے باعث مسافر گھنٹوں تک پھنستے رہتے ہیں، جبکہ بھاری گاڑیوں، خاص طور پر ٹرکوں کو کچرے، گڑھوں اور مٹی کے تودوں کے باعث شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی افراد کے مطابق، وہ کئی بار سول حکومت اور متعلقہ محکمہ کمیونیکیشن اینڈ ورکس (C&W) کو شکایات درج کرا چکے ہیں، مگر سڑک کی بحالی کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکومتی عدم توجہی اور ناقص پالیسیوں کے باعث روزانہ ہزاروں مسافروں اور تاجروں کو اذیت اٹھانا پڑ رہی ہے۔یہ سڑک نہ صرف عام عوام بلکہ پاک افغان تجارتی سرگرمیوں کے لیے بھی انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔ سابقہ صوبائی حکومت نے اس سڑک کی اپ گریڈیشن کے لیے اربوں روپے کے فنڈز منظور کیے تھے، تاہم موجودہ حکومت نے یہ فنڈز منسوخ کر دیے، جس کے نتیجے میں منصوبے پر کام شروع نہ ہو سکا۔علاقہ مکینوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وانا گومل زام روڈ کی فوری تعمیر نو کا آغاز کیا جائے تاکہ تجارتی سرگرمیاں بحال ہوں اور مسافروں کو درپیش مشکلات کا خاتمہ ہو۔انہوں نے مقامی ایم این اے زبیر خان وزیر اور ایم پی اے عجب گل وزیر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے پر فوری نوٹس لیں اور وفاقی و صوبائی حکومتوں سے شاہراہ کی مرمت و بحالی کے لیے سنجیدہ اقدامات کروائیں۔عوام نے وزیرِاعظم، وزیرِاعلیٰ خیبر پختونخوا، اور چیف آف آرمی اسٹاف سے درخواست کی کہ سڑک کی تعمیر و بحالی کے لیے فنڈز کی منظوری کو یقینی بنایا جائے۔ مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ شاہراہ نہ صرف جنوبی وزیرستان بلکہ پورے ملک کی اقتصادی ترقی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتی ہے، اور اس کی فوری تعمیر وقت کی اہم ضرورت ہے۔